الفایہ سائٹ کا یونیسکو عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہونا، امارات کے لیے تاریخی اعزاز قرار

ابوظہبی، 17 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیرِ ثقافت اور قومی کمیشن برائے تعلیم، ثقافت و سائنس کے چیئرمین، شیخ سالم بن خالد القاسمی نے پیرس میں یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی کے 47 ویں اجلاس میں الفایہ سائٹ کو "عالمی ورثہ کی فہرست" میں شامل کیے جانے کے متفقہ فیصلے کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نمایاں کارنامہ امارات کی عالمی ثقافتی منظرنامے پر مضبوط موجودگی کی غمازی کرتا ہے، جو قومی ورثہ کے اداروں اور سائنسی و ثقافتی تحقیقی تنظیموں کے باہمی اور مربوط تعاون کا ثمر ہے۔

وزارتِ ثقافت سے وابستہ یو اے ای نیشنل کمیشن برائے تعلیم، ثقافت و سائنس اور یونیسکو میں اماراتی وفد کی کوششوں کے نتیجے میں یہ کامیابی ممکن ہوئی، جنہوں نے ورثے کے تحفظ کے لیے قومی اداروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سطح پر امارات کے مقام کو اجاگر کیا۔

یہ کامیابی الفایہ سائٹ کو یونیسکو کی عالمی فہرست میں شامل کرنے کے لیے کی جانے والی بھرپور کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں شارجہ آثارِ قدیمہ اتھارٹی اور شیخہ بدور بنت سلطان القاسمی کے ایگزیکٹو آفس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ شیخہ بدور اس منصوبے کے لیے بین الاقوامی نامزدگی کی سرکاری سفیر تھیں۔

شیخ سالم القاسمی نے اس موقع پر کہا کہ یہ کامیابی ریاست کی اس اسٹریٹجک وژن کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت قومی ورثے کو قومی شناخت اور عالمی ثقافتی مکالمے کا اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الفایہ سائٹ کی اہمیت صرف قومی نہیں بلکہ عالمی علمی ورثے کا حصہ ہے، جو انسان کے ارتقائی سفر اور موسمی و ماحولیاتی چیلنجز کے خلاف اس کی جدوجہد کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔

الفایہ سائٹ، جو امارتِ شارجہ کے وسطی علاقے میں واقع ہے، 210,000 سال سے زیادہ پرانی انسانی موجودگی کا سب سے پرانا مستقل ریکارڈ رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ خطہ صرف عبوری گزرگاہ نہیں بلکہ متعدد بار انسانی بستیاں قائم ہونے کی جگہ رہا، جس کی بڑی وجوہات میں چشموں اور وادیوں سے پانی کی فراہمی، چقماق پتھر کی دستیابی اور قدرتی پناہ گاہوں کا موجود ہونا شامل ہے۔

یہ مقام ماقبل تاریخ میں انسانی استحکام کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ ثابت ہوا، جو انسانی بقا، اختراع اور ماحول سے مطابقت کا زندہ مظہر ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور بشریات کے مطابق، الفایہ کی خصوصیات اسے عالمی سطح پر غیرمعمولی ثقافتی ورثہ کا درجہ دیتی ہیں۔

حکام کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے 2024 سے 2030 تک کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں سائٹ کے تحفظ، تحقیق، دریافتوں، اور تعلیمی و سیاحتی رسائی کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ یونیسکو کے معیار سے ہم آہنگ ہے، اور مستقبل میں مسلسل تحقیقی و تدریسی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔

شیخ سالم القاسمی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ امارات عالمی ثقافتی و قدرتی ورثے کے تحفظ میں اپنا قائدانہ کردار برقرار رکھے گا، تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے تاریخی شعور اور انسانی ورثہ محفوظ رکھا جا سکے۔