دبئی، 22 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے آج میناء الحمرية کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بندرگاہ میں جاری ترقیاتی کاموں اور اس کے علاقائی و عالمی تجارت میں بڑھتے ہوئے کردار کا جائزہ لیا۔
شیخ محمد بن راشد نے کہاکہ، "ہم اپنی بندرگاہوں کو ایسے متحرک دروازوں میں تبدیل کر رہے ہیں جو نہ صرف دنیا کو جوڑیں، بلکہ اشیاء کے بہاؤ کو تیز، مواقع پیدا کریں اور جدت کو فروغ دیں۔ ہمارا ہدف ایک انقلابی وژن اور نئے معیارات کے ساتھ صرف مقابلہ کرنا نہیں بلکہ عالمی تجارت کی قیادت کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دبئی تاجروں کی پہلی ترجیح، اعتماد یافتہ تجارتی راہداری، اور دنیا کی سب سے متحرک سپلائی چین کا مرکز بنے۔"
دورے کے دوران شیخ محمد بن راشد کو بندرگاہ کے خوراکی تحفظ اور خلیج عرب میں تجارت کی روانی میں اس کے کلیدی کردار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، خاص طور پر تازہ پھلوں، سبزیوں اور مویشیوں کی درآمدات کے حوالے سے۔ ڈی پی ورلڈ (DP World) کے حکام نے مستقبل کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی، جو خطے میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
شیخ محمد بن راشد نے میناء الحمرية میں ایک بڑے توسیعی منصوبے کی بھی منظوری دی، جس کے تحت 700 میٹر طویل اور 12 میٹر گہرے کیوای وال (quay) کی تعمیر کی جائے گی۔ یہ منصوبہ بڑے بحری جہازوں کے استقبال اور مال برداری کی صلاحیت کو وسعت دینے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
یہ ترقیاتی اقدامات سال 2024 کی توسیع پر استوار ہیں، جس میں 1,150 میٹر کا نیا کوئے وال شامل کیا گیا تھا، جس سے برتھنگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اب بندرگاہ مختلف اقسام کی اشیاء — اسٹیل ویسلز، بریک بلک کارگو، RoRo، کنٹینرز، اور روایتی لکڑی کی کشتیاں (دھاؤ) — سنبھال رہی ہے۔ اس طرح بندرگاہ نے اپنی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے جدید لاجسٹکس کو اپنایا ہے۔
بندرگاہ کی کل اسٹوریج گنجائش اب بڑھ کر 6.4 ملین اسکوائر فٹ ہو گئی ہے، جو پہلے 3.4 ملین تھی، اور یہ دبئی کی بڑھتی ہوئی تجارتی امنگوں کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او، سلطان احمد بن سلیم نے کہاکہ، "میناء الحمرية طویل عرصے سے دبئی کے تجارتی شعبے کا ایک اہم ستون رہا ہے، اور ہم اس بندرگاہ میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے تاکہ اس کی سمندری وراثت محفوظ رہے۔ یہ توسیعی منصوبہ بندرگاہ کو قومی اقتصادی وژن سے ہم آہنگ کرنے اور علاقائی تجارت و غذائی تحفظ کو مستحکم کرنے میں مدد دے گا۔"
ایک وقت میں صرف لکڑی کی دھاؤ کے لیے مخصوص یہ بندرگاہ اب متعدد اقسام کی اشیاء کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور پھلوں، سبزیوں اور مویشیوں کی تجارت کے لیے اہم گیٹ وے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ 2025 میں مویشیوں کی درآمدات کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بندرگاہ نے گزشتہ برس کے اپگریڈ کے بعد جہازوں کی آمدورفت میں 11 فیصد اضافہ درج کیا — 2024 کی پہلی ششماہی میں 2,430 ویسل کالز کے مقابلے میں 2025 کی اسی مدت میں یہ تعداد 2,700 تک پہنچ گئی۔
سال کی پہلی ششماہی (H1 2025) کے دوران، بندرگاہ نے تقریباً 9.07 ارب درہم مالیت کی تجارت کو سنبھالا، جو دبئی کی اقتصادی قوت، مرچنٹ نیٹ ورک، اور انفراسٹرکچر کی لچکداری کی عکاسی کرتا ہے۔
میناء الحمرية میں جاری توسیعی اقدامات اس امر کا مظہر ہیں کہ دبئی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بندرگاہوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی تجارت میں قیادت کے اپنے وژن کو حقیقت کا روپ دے سکے۔ ان اقدامات سے دبئی کی پوزیشن عالمی بحریاتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہو گی۔