اتحاد ایئرویز کا 2025 کے اختتام تک 2 کروڑ 15 لاکھ مسافروں کو لے جانے کا ہدف

ابوظہبی، 23 جولائی، 2025 (وام)--اتحاد ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انتونوالدو نیوس نے سال 2025 کے لیے کمپنی کے توسیعی منصوبے پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال کے اختتام تک تقریباً 2 کروڑ 15 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو کہ 2022 کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زائد ہے۔

نیوس نے ایمریٹس نیوز ایجنسی، وام کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ اس ترقی کا انحصار بیڑے میں توسیع پر ہے، جس کے تحت رواں سال کے اختتام سے قبل 18 نئے طیارے شامل کیے جائیں گے۔ ان میں سے دو طیارے پہلے ہی شامل ہو چکے ہیں، جب کہ بقیہ 16 طیارے آئندہ مہینوں میں شامل کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سال کی پہلی ششماہی میں اتحاد ایئرویز ایک کروڑ سے زائد مسافروں کو خدمات فراہم کر چکی ہے، اور امید ہے کہ 2025 کے اختتام تک کمپنی کے پاس 115 سے 120 طیاروں پر مشتمل بیڑا ہو گا۔

نیوس نے مالیاتی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اتحاد ایئرویز نے 2022 میں مالیاتی توازن (Break-even) حاصل کیا، 2023 میں 3 فیصد منافع کی شرح حاصل کی، جو گزشتہ سال 6 فیصد تک پہنچ گئی۔ رواں سال منافع کی شرح 7 سے 8 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کمپنی سال بہ سال تدریجی انداز میں منافع کی شرح بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور یہ تمام ترقی اندرونی مالیاتی ذرائع سے ممکن بنائی جا رہی ہے، جو کہ کمپنی کی مالیاتی پائیداری کا ثبوت ہے۔

نیوس کے مطابق، اتحاد ایئرویز کا عالمی نیٹ ورک تقریباً 100 مقامات پر مشتمل ہے۔ تاہم کمپنی کی حکمتِ عملی صرف نئے روٹس شامل کرنے پر نہیں بلکہ موجودہ روٹس پر پروازوں کی تعداد میں اضافہ پر بھی مرکوز ہے۔

فرینکفرٹ اور بارسلونا کے لیے پروازوں کی تعداد روزانہ دو پروازوں تک بڑھائی گئی ہے، جب کہ بنکاک کے لیے روزانہ پانچ پروازیں پیش کی جا رہی ہیں۔ نیوس نے بتایا کہ اضافی پروازوں میں سے دو تہائی موجودہ روٹس کے لیے مختص کی گئی ہیں، جب کہ صرف ایک تہائی نئی منازل کے لیے ہے۔

کمپنی کی حکمت عملی 2030 تک ایسے بازاروں میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے جو ابوظبی سے چار گھنٹوں کی پرواز کے فاصلے پر ہوں، جن میں بھارت، پاکستان اور مشرق وسطیٰ شامل ہیں۔

نیوس نے بتایا کہ کولمبو، ریاض، جدہ، ممبئی اور مسقط جیسے اہم مقامات کے لیے روزانہ چار پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، کمپنی کی خواہش ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور مشرقی امریکہ کی تمام منازل کے لیے کم از کم دو روزانہ پروازیں فراہم کی جائیں۔

نیوس نے بتایا کہ اس ہفتے جرمنی کے شہر ہیمبرگ سے اتحاد ایئرویز کو پہلا A321 لانگ رینج طیارہ موصول ہو گا، جو کہ کمپنی کا پہلا نیرُو باڈی طیارہ ہو گا جس میں فرسٹ کلاس کی مکمل فلیٹ سیٹیں موجود ہوں گی۔ انہوں نے اسے ’’نیرُو باڈی طیاروں پر دنیا کا بہترین سفری تجربہ‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ زیاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو ابوظبی کی نئی فضائی مرکزیت کا مظہر ہے، کمپنی کی توسیع کو مکمل سہارا دے رہا ہے۔ 2030 تک اتحاد ایئرویز کا ہدف 200 طیاروں کا بیڑا اور 38 سے 39 ملین مسافروں کو خدمات فراہم کرنا ہے، جو اگلے پانچ سال میں کمپنی کے حجم کو دوگنا کر دے گا۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر نے ابوظہبی کی غیر معمولی ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سالانہ آبادی میں 7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ عالمی اوسط سے پانچ سے چھ گنا زیادہ ہے، اور یہ ترقی سیاحت، ثقافت، کانفرنسز اور نمائشوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے طیارہ ساز اداروں کی تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے عملیاتی منصوبے پہلے سے ترتیب دے رکھے تھے۔ اس مقصد کے لیے لیز پر طیاروں کی شمولیت میں تیزی لائی گئی اور سات A380 طیاروں کو دوبارہ سروس میں لایا گیا۔

نیوس نے اختتام پر کہا کہ اتحاد ایئرویز اب زیادہ لچک دار اور فعال بن چکی ہے اور بدلتے عالمی سفری حالات میں خود کو مؤثر انداز میں ڈھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، تاکہ کمپنی اپنی وژن کے مطابق سفر کے لیے پہلی ترجیح بنے۔