ابوظہبی، 23 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے میڈیا کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران 2 ہزار 562 میڈیا لائسنس اور اجازت نامے جاری کیے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی میڈیا حب کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
یہ انکشاف قومی میڈیا کونسل کے دوسرے بورڈ اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت کونسل کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بطی الحمید نے کی۔ اجلاس کے دوران کونسل کی ششماہی کارکردگی، مستقبل کی پالیسیوں اور میڈیا شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جاری کردہ میڈیا لائسنسز میں 2,152 روایتی میڈیا لائسنس، 235 سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کے لیے، 103 فلمسازی کے پرمٹ اور 72 اخبارات و میگزینز کے لائسنس شامل ہیں، جو میڈیا انڈسٹری کی وسعت کا ثبوت ہیں۔
میڈیا کونسل کی رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے دوران پانچ لاکھ سے زائد کتابوں کے عنوانات پر کام ہوا، جب کہ 35 ہزار کتابیں مقامی مارکیٹ میں تقسیم کی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 32 ایسی کتابیں بھی سامنے آئیں جنہیں ملکی اقدار سے متصادم قرار دے کر پابندی عائد کر دی گئی۔
اسی طرح فلمی صنعت بھی پیچھے نہ رہی۔ 611 فلموں کو اسکریننگ کی منظوری دی گئی جن کی مجموعی ٹکٹ فروخت 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی اور ان سے 309 ملین درہم کی آمدنی ہوئی۔ 131 ویڈیو گیمز بھی مارکیٹ میں متعارف کرانے کی اجازت دی گئی۔
اجلاس میں میڈیا ریگولیشن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نئے قانون سازی فریم ورک پر بھی غور کیا گیا۔ اس حوالے سے کونسل نے ایک نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تیاری کا عندیہ دیا جو معروف کمپنی "Presight" کے اشتراک سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ اس سسٹم میں مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیٹا اینالیسز کو استعمال میں لا کر لائسنسنگ، مواد کی نگرانی اور فوری ردعمل کو مؤثر بنایا جائے گا۔
عبداللہ بن بطی الحمید کا کہنا تھا کہ قیادت کی ہدایات پر مبنی حکمت عملی کے تحت ایسا لچکدار اور مؤثر میڈیا ماڈل تیار کیا جا رہا ہے جو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے بقول، تخلیقی معیشت کو ملکی ترقی کا مرکزی جزو بنانے کے لیے یہ اقدامات نہایت اہم ہیں، اور آئندہ مرحلے میں بین الاقوامی شراکت داریوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔
اجلاس میں کئی اہم حکومتی اور میڈیا اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے، جن میں راس الخیمہ، ابوظہبی، شارجہ، عجمان اور وفاقی وزارتوں کے اعلیٰ عہدیداران شامل تھے۔