آئی ایم ایم اے ایف یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ: سیف البلوشی نے امارات کے لیے پہلا طلائی تمغہ جیت لیا

العین، 23 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نوجوان کھلاڑی سیف البلوشی نے بدھ کے روز العین میں جاری آئی ایم ایم اے ایف یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ میں میزبان ملک کے لیے پہلا طلائی تمغہ جیت کر نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے 14 تا 15 سال کی عمر کے مردوں کے ’یوتھ بی‘ 40 کلوگرام کے فائنل میں تاجکستان کے عزیزالله مرزویف کو شکست دی۔ البلوشی نے نہایت پُرسکون اور فنی طور پر برتر کارکردگی دکھائی، جس پر مقامی شائقین نے بھرپور داد دی۔

یہ دوسرا موقع ہے جب البلوشی نے آئی ایم ایم اے ایف یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ اس سے قبل بھی وہ 2023 میں اسی وزن کے زمرے میں سرفہرست رہے تھے۔

امارات کی تمغوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے، غلا الحمادی نے یوتھ بی خواتین کی 44 کلوگرام کیٹیگری میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کامیابیوں کے بعد میزبان ملک کا مجموعی تمغوں کا اسکور 11 ہو گیا ہے، جن میں ایک سونا، دو چاندی اور آٹھ کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

چیمپئن شپ کے تیسرے دن کا آغاز یوتھ بی کیٹیگری کے مقابلوں سے ہوا، جو العین میں واقع اے ڈی این ای سی سینٹر میں جاری ہیں۔ ان مقابلوں میں یکساں مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کے درمیان سنسنی خیز مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے، جو مختلف وزن کے زمروں میں شرکت کر رہے ہیں۔

یہ عالمی مقابلے پہلی مرتبہ العین ریجن میں منعقد کیے جا رہے ہیں اور یہ 27 جولائی تک جاری رہیں گے۔ اس ایونٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد اہم قومی و بین الاقوامی شخصیات نے اس میں شرکت کی۔ ان معزز شخصیات میں ایشین چیس فیڈریشن کے صدر، یو اے ای ایسپورٹس فیڈریشن کے سربراہ اور العین چیس اینڈ مائنڈ گیمز کلب کے چیئرمین شیخ سلطان بن خلیفہ بن شخبوت آل نہیان، وزیرِ مملکت برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی، العین سٹی میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل راشد مصبح المناعی، انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے صدر کیرتھ براؤن، یو اے ای جیو جِتسو اور مارشل آرٹس فیڈریشن کے بورڈ ممبر یوسف عبداللہ البطران، العین میں ابوظبی بزنس سینٹر کے ڈائریکٹر خالد عبداللہ الظاہری، اور انٹرنیشنل فیڈریشن کے نائب صدر وسّام ابی نادر شامل تھے۔

متحدہ عرب امارات جیو جِتسو و مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کی ایم ایم اے کمیٹی کے رکن محمد جاسم الحسنی نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کیج میں کھلاڑیوں کی فنی مہارت اور حربی حکمت عملی میں نمایاں بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے اس سال کی چیمپئن شپ کو ایک حوصلہ افزا قدم قرار دیا جو عالمی سطح پر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شائقین کی بڑی تعداد اور خاندانی حمایت نے اس ایونٹ کو ایک ثقافتی اور سماجی سرگرمی میں تبدیل کر دیا ہے۔