اقوام متحدہ اور او آئی سی کا تعاون عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار، اسلاموفوبیا کے خلاف کردار کو سراہا گیا

نیویارک، 24 جولائی، 2025 (وام)--اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے مشرق وسطیٰ، ایشیا اور پیسیفک خالد خیاری نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے درمیان دیرینہ تعاون بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

خالد خیاری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں "علاقائی و ذیلی تنظیموں کا امن و امان کے قیام میں کردار" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور منصفانہ حل کے لیے اقوام متحدہ اور او آئی سی ایک جیسے اہداف رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں 9 جولائی کو ڈاکار، سینیگال میں بیت المقدس سے متعلق مشترکہ سالانہ کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے عرب لیگ اور او آئی سی کی مشترکہ وزارتی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کی توثیق قابلِ تحسین قدم ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی حمایت پر مبنی ہے۔

خالد خیاری نے رواں سال منعقد ہونے والے دو ریاستی حل کی حمایت میں مجوزہ وزارتی اجلاس کو نہایت اہم قرار دیا، جس کی میزبانی فرانس اور سعودی عرب مشترکہ طور پر کریں گے۔ یہ اجلاس فلسطین کے مسئلے پر بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو مزید تقویت دینے میں مددگار ہوگا۔

اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان پر گفتگو کرتے ہوئے، خالد خیاری نے کہا کہ یہ ایک سنگین عالمی چیلنج بن چکا ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔ انہوں نے او آئی سی کے قائدانہ کردار کو سراہا، جو مذہبی عدم برداشت اور نفرت انگیز بیانیوں کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں اقدامات کرتے ہوئے میگوئل موراتینوس کو اسلاموفوبیا کے خلاف خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے تاکہ او آئی سی اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نفرت انگیزی اور تعصب کے خلاف ٹھوس حکمت عملی بنائی جا سکے۔

خالد خیاری نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ماننا ہے کہ مذہبی و ثقافتی تنوع معاشروں کی مضبوطی کی علامت ہے اور اقوام متحدہ ہر قسم کے امتیاز اور نفرت کے خلاف کھڑی ہے۔