برلن، 28 جولائی، 2025 (وام)--جرمن حکومت نے اردن کے تعاون سے غزہ کے لیے فوری انسانی امدادی فضائی پل قائم کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے، جب کہ اسرائیل پر انسانی بحران کے خاتمے کے لیے ممکنہ دباؤ بڑھانے کے امکانات بھی ظاہر کیے ہیں۔
یہ فیصلہ پیر کے روز وفاقی سلامتی کابینہ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اعلان کیا کہ برلن فوری طور پر فضائی پل منصوبے پر عمل درآمد شروع کرے گا۔
چانسلر مرز نے بتایا کہ اس آپریشن کی نگرانی جرمن وزیرِ دفاع بورس پسٹوریس کریں گے، اور اس سلسلے میں وہ فرانس اور برطانیہ کے ساتھ قریبی تعاون کریں گے۔ دونوں ممالک نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس مشن میں شمولیت کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
اسی دوران، چانسلر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اسرائیل پر انسانی رسائی بہتر بنانے کے لیے مخصوص اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ سلامتی کابینہ نے ایسے ممکنہ اقدامات پر غور کیا ہے تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
مرز کا کہنا تھا کہ اگر جرمنی نے کسی اقدام کا فیصلہ کیا تو وہ اسے یورپی کمیشن کے سامنے ایک تجویز کے طور پر پیش کرے گا، جب کہ ہتھیاروں کی برآمد سے متعلق فیصلے جرمنی کی خفیہ فیڈرل سیکیورٹی کونسل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برلن، جمعرات کے روز جرمن وزیر خارجہ جوہان فادیفل کے خطے کے متوقع دورے کے نتائج کا انتظار کرے گا، جس میں ممکنہ طور پر برطانوی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ بھی شریک ہوں گے۔ اس کے بعد آئندہ اقدامات سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔