نیویارک، 29 جولائی 2025 (وام)--اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ غزہ قحط کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جہاں غذائی قلت اور خوراک کے استعمال سے متعلق اشاریے بدترین سطح پر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے "انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC)" کی تازہ ترین رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ یہ محض انتباہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو دنیا کے سامنے کھل کر آ چکی ہے۔ فلسطینیوں کو بے مثال انسانی بحران کا سامنا ہے اور وہ شدید بھوک، بیماری اور بنیادی سہولیات کے فقدان سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھیانک حقیقت اب ختم ہونی چاہیے۔
تازہ ترین انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن الرٹ کے مطابق، غزہ کے بعض علاقوں میں قحط کے تین میں سے دو بنیادی اشاریے عبور ہو چکے ہیں۔ خوراک اور زراعت کی عالمی تنظیم (FAO)، عالمی ادارہ خوراک (WFP) اور یونیسف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری اور مکمل پیمانے پر انسانی امداد نہ پہنچائی گئی تو بڑے پیمانے پر اموات واقع ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں خوراک کے استعمال کی شرح — جو قحط کا پہلا بڑا اشاریہ ہے — مئی 2025 کے بعد سے تیزی سے گر چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ہر تین میں سے ایک شخص (39 فیصد) کئی دن بغیر خوراک گزارنے پر مجبور ہے۔ تقریباً پانچ لاکھ افراد — جو غزہ کی آبادی کا ایک چوتھائی بنتے ہیں — قحط جیسی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ باقی آبادی بھی شدید بھوک کے خطرے سے دوچار ہے۔
رپورٹ میں بچوں میں غذائی قلت — جو قحط کا دوسرا اہم اشاریہ ہے — کے خطرناک حد تک بڑھنے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ غزہ شہر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت کی شرح صرف دو ماہ میں چار گنا ہو کر 16.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو کہ زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی حد ہے۔
خوراک اور زراعت کی عالمی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل، چو دونگیو نے کہا ہے کہ غزہ میں خوراک کی قلت خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں بلکہ رسائی کی بندش، مقامی زرعی نظام کی تباہی اور روزگار کے ذرائع کے خاتمے کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں فوری طور پر محفوظ اور مستقل انسانی رسائی درکار ہے اور مقامی پیداوار کی بحالی کے لیے فوری امداد فراہم کرنی ہوگی۔"
عالمی ادارہ خوراک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سنڈی میک کین نے زور دیا کہ غزہ میں بھوک سے مرنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اگر عالمی برادری نے فوری قدم نہ اٹھایا تو ہلاکتوں میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "بھرپور خوراکی امداد غزہ میں بلا تاخیر پہنچائی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔"
اقوامِ متحدہ کی خواتین سے متعلق ایجنسی (UN Women) کے مطابق، غزہ میں دس لاکھ خواتین اور بچیاں قحط، تشدد اور بدسلوکی کے سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ اشیائے خورونوش کی قلت، بنیادی سہولیات کی تباہی اور تحفظ کی کمی نے خواتین کو غیر معمولی حد تک خطرناک حالات سے دوچار کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی خواتین سے متعلق ایجنسی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بہوث نے کہا کہ غزہ کی خواتین یا تو اپنے پناہ گاہوں میں بھوک سے مرنے کا خطرہ مول لیتی ہیں یا خوراک و پانی کی تلاش میں باہر نکل کر جان گنوانے کا۔ انہوں نے اس صورتحال کو "ناقابلِ قبول، انسانیت سوز اور ہولناک" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وسیع پیمانے پر بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی اور مستقل جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔