امارات کی غیر تیل تجارت 1.7 ٹریلین درہم تک پہنچ گئی، 24 فیصد سالانہ اضافہ": شیخ محمد بن راشد

دبئی، 30 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا ہے کہ اماراتی قیادت کے وژن کے تحت ملک نے عالمی سطح پر خود کو ایک اہم تجارتی قوت اور معتبر شراکت دار کے طور پر منوایا ہے، جو دنیا بھر میں تجارت کے بہاؤ کو سہل بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں امارات کی تیل سے ہٹ کر غیر ملکی تجارت نے 1.7 ٹریلین درہم کا سنگ میل عبور کیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24 فیصد زائد ہے۔ ان کے مطابق 2024 بھی ایک غیرمعمولی معاشی سال تھا، مگر 2025 کی کارکردگی نے تمام سابقہ ریکارڈز توڑ دیے۔

شیخ محمد بن راشد کے مطابق، امارات کی تجارت میں یہ اضافہ 2022 کے مقابلے میں 59.5 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 37.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2021 کے ابتدائی چھ ماہ کی نسبت تجارتی حجم دگنا ہو چکا ہے۔ 2019 کے مقابلے میں یہ ترقی دو گنا سے بھی زیادہ رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ستمبر 2021 میں متعارف کروایا گیا سیپا (جامع اقتصادی شراکت داری) پروگرام اب اپنے بھرپور ثمرات دے رہا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اب تک 28 معاہدے طے پا چکے ہیں، جن میں سے 10 نافذ العمل ہو چکے ہیں۔ ان معاہدوں کی بدولت امارات کو 3 ارب افراد تک بلا رکاوٹ تجارتی رسائی حاصل ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی تیل سے ہٹ کر برآمدات 2025 کے پہلے نصف میں 369.5 ارب درہم تک پہنچ گئیں، جس میں 44.7 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ یہ سطح 2023 کے مقابلے میں 80 فیصد، 2022 اور 2021 کے مقابلے میں دوگنا اور 2019 و 2020 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ رہی۔ یہ ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔

تیل سے ہٹ کر برآمدات نے امارات کی کل تجارت میں 21.4 فیصد حصہ ڈالا، جو کہ 2024 میں 18.4 فیصد اور 2023 میں 16.4 فیصد تھا۔

2025 کے پہلے چھ ماہ میں متحدہ عرب امارات کی سب سے زیادہ غیر تیل برآمدات جن ممالک کو ہوئیں، ان میں سوئٹزرلینڈ، بھارت، ترکی اور ہانگ کانگ شامل تھے۔ ان میں سے سوئٹزرلینڈ، بھارت اور تھائی لینڈ نے سب سے زیادہ ترقی کی شرح درج کی۔

سیپا شراکت دار ممالک کو ہونے والی برآمدات کی مالیت 85.02 ارب درہم تک جا پہنچی، جو 62.8 فیصد ترقی اور کل برآمدات میں 23 فیصد حصہ ظاہر کرتی ہے۔ صرف بھارت کو 51.45 ارب درہم کی برآمدات ہوئیں، جو گزشتہ سال کی نسبت 97.6 فیصد اضافہ ہے۔ ترکی کو 27.2 ارب درہم کی برآمدات ہوئیں، جس میں 24.1 فیصد اضافہ ہوا۔

ری-ایکسپورٹس (دوبارہ برآمدات) نے بھی ترقی کا تسلسل برقرار رکھا، جن کی مالیت 389 ارب درہم رہی – 2024، 2023 اور 2022 کے مقابلے میں بالترتیب 14، 15.8 اور 25.4 فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری جانب، امارات کی درآمدات 2025 کی پہلی ششماہی میں 969.3 ارب درہم تک پہنچ گئیں، جس میں 22.5 فیصد سالانہ ترقی ہوئی۔ سرفہرست 10 شراکت دار ممالک سے درآمدات میں 20.8 فیصد اور دیگر ممالک سے 24.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس عرصے میں بھارت کے ساتھ تجارت میں 33.9 فیصد، چین کے ساتھ 15.6 فیصد، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ حیران کن طور پر 120 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ 21.3 فیصد، ترکی کے ساتھ 41.4 فیصد اور امریکہ کے ساتھ 29 فیصد تجارتی ترقی ہوئی۔ ان تمام اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امارات کی تجارتی پالیسی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ فرانس بھی پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات کے سرفہرست 10 تجارتی شراکت داروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے، جو یورپی مارکیٹ میں امارات کے بڑھتے ہوئے رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔