متحدہ عرب امارات کی غیر تیل تجارت 1.7 ٹریلین درہم سے تجاوز، عالمی اوسط سے 14 گنا زیادہ اضافہ

ابو ظہبی، 30 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا ہے کہ 2025 کی پہلی ششماہی میں امارات نے غیر تیل غیر ملکی تجارت کے شعبے میں ریکارڈ سطح حاصل کی، جہاں 24.5 فیصد سے زائد سالانہ ترقی کے ساتھ 1.7 ٹریلین درہم کی تجارت ریکارڈ کی گئی۔ یہ شرح عالمی اوسط 1.75 فیصد کے مقابلے میں 14 گنا زیادہ ہے، جو کہ ملک کی طویل المدتی اقتصادی پالیسیوں اور مستقبل بَین حکمت عملیوں کا ثبوت ہے۔

انہوں نے وام کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں (سیپا) کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے، اور اب تک 28 معاہدے طے پا چکے ہیں جن میں سے 10 پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ مزید 3 سے 6 نئے معاہدے رواں سال کے اختتام تک متوقع ہیں۔

ڈاکٹر الزیودی کے مطابق غیر تیل برآمدات 2025 کی ابتدائی ششماہی میں تقریباً 370 ارب درہم تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہے۔ قومی برآمدات نے کل غیر تیل تجارت میں 21.4 فیصد حصہ ڈالا، جو کہ ملکی تنوع پر مبنی اقتصادی ماڈل اور صنعتی حکمت عملی کی کامیابی کا مظہر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ درآمدات میں 22.5 فیصد اضافہ ہوا، جس سے امارات کی عالمی ری-ایکسپورٹ مرکز کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی۔ اسی طرح ری-ایکسپورٹس کی مالیت 389 ارب درہم تک پہنچی، جس میں 14 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈاکٹر الزیودی کے مطابق، بھارت کے ساتھ تجارت میں تقریباً 34 فیصد اور ترکی کے ساتھ 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو کہ سیپا معاہدوں اور اوپن اکنامک پالیسی کی براہ راست کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پیش رفت نہ صرف موجودہ مارکیٹوں کو وسعت دے رہی ہے بلکہ یو اے ای میں تیار کردہ مصنوعات کی عالمی مسابقت کو بھی مضبوط کر رہی ہے۔

وزیر موصوف نے یہ بھی واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کی نئی صنعتی حکمت عملی کا بنیادی ہدف ری-ایکسپورٹ ماڈل سے براہِ راست برآمداتی ماڈل کی جانب منتقلی رہا ہے، جس کے لیے مخصوص عالمی منڈیوں کو سیپا معاہدوں کے ذریعے ہدف بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں بھی قومی تجارتی پالیسی کا اہم ستون ہیں۔