اسلام آباد، 5 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے اے ڈی پورٹس گروپ نے اسلام آباد میں اپنے پہلے نمائندہ دفتر کے قیام کا باضابطہ آغاز کیا ہے، جو کہ جنوبی و وسطی ایشیا میں تجارتی اور لاجسٹک روابط کو فروغ دینے کی اس کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا اہم سنگِ میل ہے۔
یہ نیا دفتر وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اداروں اور سرکاری کمپنیوں کے قریب واقع ہے، اور اے ڈی پورٹس کے 140 سے زائد عالمی دفاتر کے نیٹ ورک میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اسلام آباد کا دفتر نہ صرف حکومتی سطح پر روابط مضبوط کرے گا، بلکہ بندرگاہوں، سمندری امور، لاجسٹکس، اور صنعتی ترقی جیسے اہم شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔
افتتاحی تقریب میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری، وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وزیر تجارت جام کمال، وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی شریک ہوئے۔
متحدہ عرب امارات کی نمائندگی پاکستان میں یو اے ای کے سفیر حمد عبید الزابی، اے ڈی پورٹس گروپ کے ریجنل سی ای او عبدالزیز الشامسی، عبدالعزیز البلوشی اور دیگر سینئر حکام نے کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے معاشی و اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی ہوئی۔
اسلام آباد دفتر کا قیام اے ڈی پورٹس گروپ کی پاکستان میں جاری سرمایہ کاری کا تسلسل ہے۔ حالیہ اقدامات میں کراچی پورٹ کے ایسٹ وارف پر کنٹینر، جنرل کارگو، اور بلک ٹرمینلز کی ترقی کے لیے 295 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے، جو کہ پاکستان کو ایک علاقائی لاجسٹکس مرکز میں تبدیل کرنے کے وژن کا حصہ ہے۔
اس موقع پر گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او کیپٹن محمد جمعہ الشمیسی نے کہا کہ، "اسلام آباد میں دفتر کا قیام ہماری عالمی وسعت پذیری کی حکمت عملی میں ایک سنگِ میل ہے، جو پاکستان کے ساتھ ہمارے دیرینہ شراکت دارانہ تعلقات کا مظہر ہے۔ یہ قدم حکومت، شراکت داروں اور منصوبہ ساز اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے راہ ہموار کرے گا، اور پاکستان کی معیشت کی تبدیلی میں اے ڈی پورٹس گروپ کا کلیدی کردار اجاگر کرے گا۔"
2022 میں، گروپ نے کاھیل ٹرمینلز کے ساتھ شراکت میں کراچی پورٹ کے ایسٹ وارف پر برتھ 6 تا 10 کی 50 سالہ لیز پر ترقی کا آغاز کیا، جسے 2023 میں برتھ 11 تا 17 کے لیے توسیع دی گئی۔ ان منصوبوں کے تحت کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ جدید ترین آپریشنل سسٹمز، مشینری، اور عالمی معیار کی سرگرمیاں متعارف کرا چکا ہے، جس سے بندرگاہ کی کارکردگی اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اے ڈی پورٹس گروپ نے حالیہ مہینوں میں پاکستان کے ساتھ متعدد اسٹریٹجک معاہدے کیے ہیں، جن کا مقصد ملک میں جدید لاجسٹک اور تجارتی نظام کو فروغ دینا ہے۔ ان معاہدوں میں پاکستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے قریب ایک مخصوص صنعتی زون کے قیام پر مفاہمت شامل ہے، جو سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے لیے ایک نمایاں قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح، پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ ایک مشترکہ ڈیجیٹل ٹریڈ پلیٹ فارم تیار کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد کسٹمز اور تجارتی کارروائیوں کو آسان بنانا اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔ علاوہ ازیں، بحریہ فاؤنڈیشن کے ساتھ ڈریجنگ، میرین سروسز اور ویسل پولنگ جیسے شعبوں میں تعاون طے پایا ہے، جس سے بندرگاہی آپریشنز کی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔
اس کے علاوہ، اے ڈی پورٹس گروپ کی ذیلی کمپنی 'Noatum Logistics' نے کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ کے ساتھ شراکت میں ایک مربوط لاجسٹک کوریڈور کے قیام کا منصوبہ پیش کیا ہے، جو پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک سے ہوائی، بحری، اور زمینی راستوں کے ذریعے جوڑے گا، اور اس میں گوداموں، تقسیم کاری اور کولڈ چین انفراسٹرکچر جیسے اجزاء بھی شامل ہوں گے۔
ان اقدامات کے ذریعے اے ڈی پورٹس گروپ کا مقصد پاکستان کے لاجسٹکس اور تجارتی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا، اور علاقائی سطح پر بہتر رابطوں کو فروغ دینا ہے۔
اسلام آباد میں نئے دفتر کا قیام ان اہداف کے حصول کی سمت ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، جو گروپ کو اہم حکومتی و نجی شراکت داروں سے قریب تر ہونے، منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے، اور پاکستان کو ایک سرکردہ علاقائی تجارتی گیٹ وے میں تبدیل کرنے کے سفر میں بھرپور معاونت فراہم کرے گا۔