ابوظہبی، 12 اگست، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ کی پٹی میں مقیم فلسطینی عوام کیلئے امدادی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں، جن کا مقصد شدید انسانی بحران میں گھرے متاثرین تک ضروری سامان کی بروقت فراہمی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، امارات نے آج "آپریشن برڈس آف گوڈنس" کے تحت 69ویں فضائی امدادی مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ امدادی مرحلہ "آپریشن الفارس الشهم 3" کا حصہ ہے، جس میں اردن کی ہاشمی حکومت کے ساتھ تعاون کے علاوہ جرمنی، اٹلی، بیلجیئم اور فرانس کی شراکت بھی شامل رہی۔
اطلاعات کے مطابق، امدادی سامان میں بنیادی غذائی اشیاء شامل تھیں، جنہیں امارات میں قائم فلاحی اداروں اور تنظیموں کی معاونت سے تیار کیا گیا۔ ان اشیاء کو غزہ کے رہائشیوں کی فوری ضروریات کے پیشِ نظر فراہم کیا گیا ہے۔
فضائی امداد کے ساتھ ساتھ زمینی راستے سے بھی امدادی سلسلہ جاری رہا، جس کے تحت 20 ٹرکوں پر مشتمل تقریباً 500 ٹن خوراک غزہ روانہ کی گئی۔ یہ اقدامات یو اے ای کی اس جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے زمینی اور فضائی دونوں ذرائع سے امداد کی ترسیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات اب تک مجموعی طور پر 3,924 ٹن سے زائد امدادی اشیاء فضائی ذریعے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچا چکا ہے، جس میں خوراک کے علاوہ دیگر ضروری سامان شامل ہے۔ یہ مسلسل امداد اس بات کی عکاس ہے کہ یو اے ای فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کی مشکلات میں کمی لانے کے عزم پر ثابت قدم ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی سطح پر امدادی سرگرمیوں میں یو اے ای کے قائدانہ کردار کو نمایاں کرتے ہیں، جہاں وہ علاقائی و عالمی تعاون کو بروئے کار لا کر بحران زدہ علاقوں میں مصیبت زدہ افراد کی مشکلات کم کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہا ہے۔