ابوظہبی، 13 اگست، 2025 (وام)--اعضاء کے عطیہ کا عالمی دن اس سال یحییٰ اور زینب الیاسی کے لیے صرف ایک علامتی دن نہیں بلکہ زندگی کے دوبارہ آغاز کا استعارہ بن کر آیا ہے۔ ان کے نومولود بیٹے احمد یحییٰ کا چند ماہ قبل جگر کی ایک نایاب موروثی بیماری کی تشخیص کے بعد یو اے ای میں سب سے کم عمر بچے کے طور پر کامیاب جگر کی پیوندکاری کی گئی، جس نے نہ صرف خاندان کو نئی زندگی دی بلکہ ملکی طبّی تاریخ میں بھی ایک روشن باب رقم کیا۔
احمد کی پیدائش، جو پانچواں بچہ اور خاندان کا پہلا زندہ بچنے والا بیٹا ہے، بظاہر خوشی کا لمحہ تھا۔ تاہم جلد ہی جگر کے انزائمز میں اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ 'ATP6AP1' سے منسلک گلائکوسائلیشن کی جینیاتی خرابی کی تشخیص ہوئی—ایک انتہائی نایاب بیماری جس کے دنیا بھر میں اب تک صرف 25 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق یہ بیماری تیزی سے جگر کو ناکام بنانے کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اس نازک مرحلے پر خاندان نے فوری زندہ عطیہ دہندہ کی تلاش شروع کی، اور احمد کے والد کے بھائی کی بیوی نے خود کو عطیہ دینے کے لیے پیش کیا۔ حیرت انگیز طور پر وہ مکمل میچ ثابت ہوئیں۔ ان کا کہنا تھاکہ، "میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ زندگی میں ایسا فیصلہ لوں گی، لیکن جب یہ جانا کہ میرے جگر کا ایک حصہ احمد کو زندگی دے سکتا ہے، تو پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔"
یہ 4 اپریل 2025 کو کیا گیا، اور ریجن کی سب سے مشکل بچوں کی پیوندکاری میں شمار ہوا۔ آپریشن کی قیادت ڈاکٹر گوراب سین اور ڈاکٹر جانز شاجی میتھیو نے کی، جبکہ بے ہوشی، نگہداشت اور بعد از آپریشن سنبھال میں ماہرین کی ٹیم شامل رہی۔ صرف ایک چھوٹے سے حصے (mono-segment graft) کو بچے کے جسم کے مطابق ڈھال کر لگایا گیا، جس میں ہر رگ "ماچس کی تیلی سے باریک" تھی، اور غلطی کی گنجائش تقریباً صفر۔
پیوندکاری کے فوراً بعد احمد کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، اور وہ چند دنوں میں خوراک لینے کے قابل ہو گیا۔ آج وہ صحت یاب ہو رہا ہے، جگر کی کارکردگی بہتر ہے اور نشوونما کے مراحل پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ اس پورے عمل نے برجیل میڈیکل سٹی کی پیشہ ور مہارت، سہولیات اور تعاون پر مبنی طبّی نظام کو نمایاں کر دیا۔
احمد کے والد یحییٰ نے گہرے جذبات کے ساتھ کہاکہ، "پہلے بیٹے کو جگر کی بیماری نے ہم سے چھین لیا، لیکن اب ہمارا احمد زندہ ہے، ہنستا ہے، سانس لیتا ہے۔ یہ سب ایک عطیہ کی بدولت ممکن ہوا۔ ہماری کہانی شاید کسی اور کو عطیہ دینے پر آمادہ کر دے۔"
"حیات" نیشنل پروگرام نے عوام کو زندہ عطیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ خاندان میں کسی ضرورت مند کو جگر یا دیگر اعضاء کا عطیہ دینا نہ صرف زندگی بچا سکتا ہے بلکہ انتظار کے دورانیے کو بھی کم کر سکتا ہے۔ صحت کے ماہرین سے مشورہ کریں، اور زندگی دینے والا بننے کا راستہ اپنائیں۔