غزہ، ، 14 اگست، 2025 (وام)-- متحدہ عرب امارات نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے تعاون سے آپریشن ‘الفارس الشهم 3’ کے تحت غزہ کی پٹی میں صحت کے شعبے کو ادویات اور طبی سامان کی بڑی کھیپ فراہم کی ہے۔ یہ امداد اسپتالوں اور طبی مراکز میں پہنچائی جائے گی تاکہ شدید قلت پر قابو پایا جا سکے اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اس موقع پر خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس کو متعدد ٹرکوں پر مشتمل اہم ادویات اور ضروری طبی آلات فراہم کیے گئے، تاکہ اسپتال کی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے، خاص طور پر اس وقت جب وہ ادویات اور آلات کی سخت کمی کا سامنا کر رہا ہے۔
شریف النیراب، میڈیا ڈائریکٹر برائے آپریشن'الفارس الشهم 3' غزہ، نے اس بات کی تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات مسلسل طبی امداد اور ادویات فراہم کر رہا ہے، تاکہ صحت کے نظام کے انہدام کو روکا جا سکے اور اسپتالوں و مریضوں کی مشکلات کم کی جا سکیں۔
اسی طرح، ہیبا النجار، ایمرجنسی میڈیکل ٹیمز کوآرڈینیٹر برائے ڈبلیو ایچ او، نے بتایا کہ یہ امدادی کھیپ فلسطینی وزارتِ صحت کے حوالے کی گئی ہے، جس میں وہ تمام ضروری اور اس وقت غزہ کی صحت کی سہولیات میں نایاب ادویات شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا اور مزید یو اے ای امداد صحت کے شعبے کو سہارا دینے کیلئے داخل ہو سکے گی۔
مزید برآں، فلسطینی وزارتِ صحت میں کمیٹی برائے وصولی امداد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابراہیم الفرا نے یو اے ای کی اس امداد کو تمام مریضوں کیلئے ایک "زندگی کی ڈور" قرار دیا۔ ان کے مطابق، ادویات اور طبی آلات کی مسلسل فراہمی نہ صرف اسپتالوں کو فعال رکھتی ہے بلکہ زخمیوں اور مریضوں کی جانیں بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہ ترسیل امدادی قافلوں کے ایک جاری سلسلے کا حصہ ہے، جو آئندہ دنوں میں بھی پہنچائے جائیں گے، تاکہ غزہ کے صحت کے بحران کو کم کیا جا سکے اور طبی خدمات کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔