ابوظہبی، 18 اگست، 2025 (وام)--امارات ریڈ کریسنٹ کے چیئرمین اور منطقہ الظفرہ میں حکمران کے نمائندے عزت مآب شیخ حمدان بن زاید النہیان نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت میں متحدہ عرب امارات نے انسانی خدمت کو اپنی قومی ترجیح اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنا لیا ہے۔
یہ بات انہوں نے 19 اگست کو منائے جانے والے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہی، جس میں انہوں نے کہا کہ امارات نے انسانیت کی خدمت کے لیے پائیدار بنیادیں رکھ دی ہیں، اور عالمی سطح پر انسانی بحرانوں کے مؤثر حل کے لیے جدت پر مبنی منصوبہ جات کو فروغ دیا ہے۔
شیخ حمدان نے واضح کیا کہ غیر ملکی انسانی امداد متحدہ عرب امارات کے سفر کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے، جس کی بنیاد غیر جانبداری، اخلاص، اور بلا تفریق خدمت پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اماراتی امداد کسی بھی نسلی، مذہبی یا فرقہ وارانہ تعصب سے پاک ہوتی ہے، اور صرف انسانیت کی فلاح کو مدِنظر رکھتی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ اقوام اور اقوامِ متحدہ کے ادارے متحد ہو کر، اجتماعی طور پر ان بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کام کریں۔ عالمی یومِ انسانیت دراصل ایک موقع ہے کہ ہم بین الاقوامی یکجہتی، اشتراکِ عمل، اور فلاحی ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کریں۔
شیخ حمدان کے مطابق، امارات نے مختلف بحران زدہ ممالک میں غربت، بھوک، اور غذائی قلت کے خلاف مستقل کوششیں جاری رکھی ہیں، کیوں کہ خوراک انسانی بقاء کی پہلی دفاعی دیوار ہے، جو بیماریوں، ہجرت اور محرومی کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے عالمی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں 72 ممالک کے 305 ملین سے زائد افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں، جبکہ 400 ملین بچے جنگ و تنازع کے شکار علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے حالات میں، امدادی اداروں اور عالمی برادری پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
شیخ حمدان نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور عطیہ دینے والی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فلاحی اداروں کی مدد میں اضافہ کریں، تاکہ وہ موجودہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے باوجود اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔
آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امارات ریڈ کریسنٹ (ERC) نے حالیہ عرصے میں خطے کے متعدد ممالک میں اپنی امدادی کارروائیوں کو وسعت دی ہے، اور اب یہ ادارہ انسانی بحرانوں کا زیادہ سرعت سے اور مؤثر انداز میں جواب دینے کے قابل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کی پالیسیوں میں انسان کو مرکزِ توجہ بنایا گیا ہے، اور اسی اصول کے تحت امدادی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔