مرکزی بینک کی مالیاتی رپورٹ جاری، مئی 2025 میں مجموعی رقم کی فراہمی اور بینکنگ اثاثوں میں نمایاں اضافہ

ابوظہبی، 18 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے مئی 2025 کے لیے اپنی مالیاتی و بینکاری رپورٹ جاری کی ہے، جس میں رقم کی رسد کے تینوں بڑے اعشاریوں (M1، M2 اور M3) میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، M1 کی مجموعی رسد میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جو اپریل کے اختتام پر AED 1,011.9 ارب سے بڑھ کر مئی کے اختتام پر AED 1,015.6 ارب ہو گئی۔ یہ اضافہ مالیاتی ڈپازٹس میں AED 3.4 ارب اور بینکوں سے باہر زیر گردش کرنسی میں AED 0.3 ارب کے اضافے کی بدولت ممکن ہوا۔

اسی طرح M2 کی رسد 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ AED 2,435.6 ارب سے بڑھ کر AED 2,474.0 ارب ہو گئی، جس کی بنیادی وجوہات M1 میں بہتری اور ‘قاسی مانیٹری ڈپازٹس’ میں AED 34.7 ارب کا اضافہ تھیں۔ M3 رسد میں بھی 1.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اپریل کے AED 2,898.2 ارب سے بڑھ کر مئی میں AED 2,948.1 ارب ہو گئی۔ اس اضافے کی وجوہات M2 میں وسعت اور حکومتی ڈپازٹس میں AED 11.5 ارب کا اضافہ تھیں۔

رپورٹ کے مطابق، مانیٹری بیس میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا، جو اپریل کے AED 819.0 ارب سے بڑھ کر مئی میں AED 836.7 ارب تک جا پہنچی۔ اس میں جاری شدہ کرنسی میں 2.1 فیصد، ریزرو اکاؤنٹس میں 29.2 فیصد، اور مالیاتی بلز و اسلامی سرٹیفکیٹس میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا، اگرچہ بینکوں اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کے CBUAE میں موجود اوور نائٹ ڈپازٹس میں 48.8 فیصد کمی بھی دیکھی گئی۔

بینکنگ سیکٹر میں بھی وسعت دیکھنے کو ملی۔ بینکوں کے مجموعی اثاثے، جن میں بینکرز ایکسپٹنس بھی شامل ہے، 2.7 فیصد بڑھ کر AED 4,878.3 ارب تک جا پہنچے، جو اپریل کے اختتام پر AED 4,749.8 ارب تھے۔ مجموعی کریڈٹ میں 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو AED 2,259.4 ارب سے بڑھ کر AED 2,293.4 ارب ہو گیا۔ اس میں مقامی کریڈٹ میں AED 7.1 ارب اور غیر ملکی کریڈٹ میں AED 26.9 ارب کا اضافہ شامل تھا۔ کریڈٹ کی تفصیل کے مطابق حکومت کو دی گئی کریڈٹ میں 2.0 فیصد، نجی شعبے کو 0.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سرکاری اداروں کو دی گئی کریڈٹ میں 2.4 فیصد اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو دی گئی کریڈٹ میں 2.5 فیصد کمی ہوئی۔

بینک ڈپازٹس میں بھی مجموعی طور پر 1.8 فیصد کا اضافہ ہوا، جو اپریل کے AED 2,965.4 ارب سے بڑھ کر مئی کے اختتام پر AED 3,018.5 ارب ہو گئے۔ اس میں مقامی (ریذیڈنٹ) ڈپازٹس میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا جو AED 2,741.3 ارب تک پہنچ گئے، جبکہ غیر مقامی (نان ریذیڈنٹ) ڈپازٹس 0.6 فیصد بڑھ کر AED 277.2 ارب ہو گئے۔ ریذیڈنٹ ڈپازٹس کی مزید تفصیلات کے مطابق: حکومت کے ڈپازٹس میں 3.4 فیصد، نجی شعبے کے ڈپازٹس میں 1.9 فیصد اور حکومتی اداروں کے ڈپازٹس میں 1.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ غیر بینکاری مالیاتی اداروں کے ڈپازٹس میں 6.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

مجموعی طور پر یہ رپورٹ متحدہ عرب امارات کے مالیاتی نظام کی مضبوطی، پالیسی مؤثریت، اور بینکاری شعبے کی وسعت و لچک کی واضح عکاسی کرتی ہے، جو ملکی اور عالمی سطح پر اس کی مالیاتی ساکھ کو مزید استحکام فراہم کرتی ہے۔