غزہ میں بھوک سے مزید 5 فلسطینی شہید، مشرقی القدس میں 7 ہزار افراد جبری بے دخلی کے خطرے سے دوچار

غزہ، 18 اگست 2025 (وام)--غزہ کی پٹی میں فلسطینی طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید 5 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق، اس طرح غزہ میں قحط اور غذائی بحران کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 263 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 112 بچے شامل ہیں۔

دوسری جانب، محافظہ القدس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے نافذ کیے جانے والے تعمیراتی منصوبے ‘E1’ اور 'سوورنٹی روڈ' پراجیکٹ کے باعث مشرقی القدس کے صحرا میں موجود 22 فلسطینی کمیونٹیز میں بسنے والے تقریباً 7,000 افراد کو جبری بے دخلی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔

گورنریٹ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس نوآبادیاتی منصوبے کے تحت جبل البابا اور وادی جمیل جیسے علاقے تقریباً مکمل طور پر العیذریہ کے قصبے سے الگ اور منقطع ہو جائیں گے، جہاں ان دونوں کمیونٹیز میں مجموعی طور پر تقریباً 100 افراد رہائش پذیر ہیں۔ منصوبہ ان بستیوں کو محصور کر کے ان کے اردگرد دیواریں کھینچنے اور فلسطینی علاقے کے جغرافیائی تسلسل کو توڑنے کا سبب بنے گا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ چند روز قبل اسرائیلی وزیرِ خزانہ بزالیل سموٹریچ نے مشروع E1 کے تحت ہزاروں نئی یہودی آبادکاری یونٹس کی منظوری دی تھی، جو مشرقی القدس کے مشرق میں واقع ہیں۔ یہ قدم نہ صرف مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات پر کاری ضرب ہے بلکہ غرب اردن (ویسٹ بینک) کی جغرافیائی و آبادیاتی وحدت کو کمزور کرتے ہوئے اسے مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کر دے گا۔