مصری ذرائع: حماس نے جنگ بندی منصوبے پر اصولی آمادگی ظاہر کر دی

قاہرہ، 18 اگست، 2025 (وام)--مصری ذرائع کے مطابق حماس نے مصر اور قطر کی ثالثی کے تحت پیش کیے گئے اُس منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدہ طے کرنا ہے۔

ذرائع نے العربیہ اور قاہرہ نیوز کو بتایا کہ اس منصوبے میں ساٹھ روز تک فوجی کارروائیوں کی معطلی، اسرائیلی افواج کی ازسرِ نو تعیناتی، اور امدادی سامان کی فراہمی کے لیے راستوں کی دستیابی شامل ہے۔ اسی دوران دس اسرائیلی مغویوں اور اٹھارہ لاشوں کے بدلے متعدد فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی تجویز کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت جنگ بندی کے پہلے دن سے ہی مستقل فائر بندی کے طریقہ کار پر مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ، شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے درمیان ملاقات ہوئی۔

مصری ایوانِ صدر کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکہ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلاروک ٹوک فراہمی یقینی بنائی جائے۔ دونوں رہنماؤں نے واضح الفاظ میں اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ غزہ کی دوبارہ قبضہ گیری یا فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول، پائیدار امن کا واحد راستہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صدر السیسی نے زور دیا کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو فوری طور پر شروع کی جائے اور اس سلسلے میں قاہرہ انٹرنیشنل ریکنسٹرکشن کانفرنس کے انعقاد کی تیاریوں پر فلسطینی حکومت اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔