امارات اور انگولا کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ، تجارت 2033 تک 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کا امکان

ابوظہبی، 25 اگست، 2025 (وام)--وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ انگولا کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) سب سہارا اور مغربی افریقہ کی ابھرتی ہوئی منڈیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا ایک سنگِ میل ہے۔ یہ معاہدہ اس خطے کی ترقیاتی کوششوں کو اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور شراکت داری کے ذریعے تقویت دے گا۔

ڈاکٹر الزیودی نے امارات نیوز ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ انگولا اپنی نوجوان آبادی، وافر قدرتی وسائل اور 2024 میں 4.4 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی وجہ سے خطے کا ایک امید افزا ملک ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ موجودہ تجارتی رفتار پر استوار ہے، بالخصوص قیمتی پتھروں، معدنیات، کان کنی، ڈیجیٹل ٹریڈ اور ایگرو ٹیک کے شعبوں میں۔

انہوں نے کہا کہ انگولا کا جغرافیائی محلِ وقوع، جو بحرِ اوقیانوس کے جنوبی ساحل پر ہے، اسے ایک بڑے لاجسٹک ہب میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امارات اور انگولا کے تعلقات 1997 میں قائم ہوئے اور وقت کے ساتھ نمایاں ترقی کی۔ 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل پر مبنی دوطرفہ تجارت 2.17 ارب ڈالر رہی، جو 2023 کے مقابلے میں 2.6 فیصد زیادہ تھی۔ صرف 2025 کے پہلے چھ ماہ میں ہی یہ تجارت 1.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29.7 فیصد اضافہ ہے۔

امارات نے 2024 میں انگولا سے بنیادی طور پر ہیروں، سونے، تانبے اور اناج کی درآمدات کیں، جو کل درآمدات کا 99.8 فیصد تھیں۔ برآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات، لوہا و فولاد، والوز و اسٹرکچرز، سگریٹس اور پرفیوم شامل تھے جو کل برآمدات کا 50 فیصد بنتے ہیں۔ ری ایکسپورٹ میں بڑے و درمیانے درجے کی گاڑیاں، ڈیزل ٹرکس، اسپیئر پارٹس اور مکینیکل پرزہ جات شامل تھے۔

ڈاکٹر الزیودی کے مطابق توانائی، انفراسٹرکچر، کان کنی، لاجسٹکس، سیاحت اور صحت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اماراتی کمپنیوں میں مصدر انگولا میں 150 میگاواٹ سولر منصوبہ بنا رہی ہے، دبئی انویسٹمنٹس 2,000 ہیکٹر پر "دبئی انویسٹمنٹس پارک – انگولا" تعمیر کر رہا ہے جبکہ ابوظہبی پورٹس گروپ نے حال ہی میں بندرگاہ لوانڈا پر ایک ملٹی پرپز ٹرمینل کا آپریشن شروع کیا ہے۔

وزیر تجارت نے کہا کہ سیپا امارات کے معاشی اہداف میں بنیادی کردار ادا کرے گا، جس کے تحت غیر ملکی تجارت کی مالیت 2031 تک 4 کھرب درہم (1.1 ٹریلین ڈالر) تک پہنچانے اور برآمدات کو دگنا کرنے کا ہدف ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ٹیرف میں کمی، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، ڈیجیٹل ٹریڈ کے لیے فریم ورک اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار فراہم کرے گا۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ سیپا سے غیر تیل پر مبنی دوطرفہ تجارت 2033 تک 10 ارب ڈالر سالانہ سے تجاوز کر جائے گی، دونوں ممالک کی جی ڈی پی میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا اور 30 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

ڈاکٹر الزیودی نے بتایا کہ یہ معاہدہ متوازن اور دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کے تحت انگولا سے تقریباً 993 ملین ڈالر کی اضافی درآمدات (جیسے شیشہ، مچھلی، پھل اور آپٹیکل مصنوعات) ممکن ہوں گی، جبکہ امارات کی برآمدات میں بھی 235 ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا، جن میں مشینری، برقی آلات، پلاسٹک، ربڑ، دھاتیں، کیمیکلز اور معدنی مصنوعات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خدمات کا شعبہ بھی معاہدے کا اہم حصہ ہے جس میں بزنس، لاجسٹکس، تعمیرات، انجینئرنگ، صحت، تعلیم، ماحولیات، فنانس، ٹیلی کمیونیکیشن اور سیاحت شامل ہیں۔ ان کے مطابق خدمات انگولا کی جی ڈی پی کا 40 فیصد ہیں، اس لیے یہ دوسرا سب سے بڑا اقتصادی شعبہ ہے۔

وزیر نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا، انکیوبیٹرز، ایکسیلیریٹرز، ایکسپورٹ ہبز اور نوجوانوں و خواتین کے منصوبوں کو مواقع فراہم کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے گی تاکہ یہ طبقہ نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی دونوں ممالک توثیقی مراحل مکمل کریں گے، معاہدہ نافذ العمل ہو جائے گا اور فوری طور پر کسٹمز کے آسان طریقہ کار، کم ٹیرف اور نئی منڈیوں تک رسائی جیسے فوائد سامنے آئیں گے۔