لوانڈا، انگولا، 26 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی مصنوعی ذہانت سے لیس اسپیس ٹیک کمپنی اسپیس42 نے انگولا کی فوجی انٹیلی جنس و سکیورٹی سروس (SISM) کے ساتھ پانچ سالہ اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ متعدد شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے تعاون پر مبنی ہے جن میں سیٹلائٹ کمیونی کیشنز، ارتھ آبزرویشن، مصنوعی ذہانت، ہائی آلٹیٹیوڈ پلیٹ فارم اسٹیشنز، نیشنل سکیورٹی ڈرونز، بارڈر کنٹرول سلوشنز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کی ترقی شامل ہے۔
معاہدے پر دستخط لوانڈا میں اسپیس42 کے چیف کمرشل آفیسر سلیمان العلی اور انگولا کے اعلیٰ فوجی حکام کی موجودگی میں کیے گئے۔ اس موقع پر کہا گیا کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے تعلقات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے باب کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسپیس42 پہلے ہی انگولا میں اپنی YahClick سیٹلائٹ براڈبینڈ سروس کے ذریعے سو فیصد کوریج فراہم کر رہی ہے۔ اب اس انفراسٹرکچر کو مزید ترقی یافتہ Thuraya-4 سیٹلائٹ سسٹم سے وسعت دی جائے گی جس سے کمپنی کے طویل المدتی عزم اور انگولا میں بڑھتی ہوئی موجودگی کا اظہار ہوتا ہے۔
سلیمان العلی نے کہا کہ یہ معاہدہ اسپیس42 کی انگولا میں برسوں کی خدمات کا فطری تسلسل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل جواؤ پریرا ماسانو اور ان کی ٹیم نے متحدہ عرب امارات کے حالیہ دورے کے دوران اسپیس ٹیکنالوجی اور اے آئی حلوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی تھی، جنہیں نہ صرف قومی سلامتی بلکہ عوامی زندگی میں بھی فائدہ مند سمجھا گیا۔
یہ معاہدہ اُن اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا نتیجہ ہے جو حال ہی میں امارات میں جنرل ماسانو اور اسپیس42 کی قیادت کے درمیان منعقد ہوئیں۔ ان اجلاسوں میں اسپیس42 نے خلائی انٹیلی جنس اور اے آئی پر مبنی جدید صلاحیتوں کی عملی نمائش اور تفصیلی بریفنگ پیش کی جس نے انگولن وفد کی بھرپور دلچسپی کو اجاگر کیا اور مزید گہرے تعاون کی راہ ہموار کی۔
معاہدے کے تحت دونوں فریقین سات اہم شعبوں میں تعاون کریں گے جن میں سیٹلائٹ کمیونی کیشن ٹیکنالوجیز، ارتھ آبزرویشن اور جیو اسپیشل انٹیلی جنس، مصنوعی ذہانت پر مبنی اینالیٹکس، ہائی آلٹیٹیوڈ پلیٹ فارم اسٹیشنز (HAPS)، نیشنل سکیورٹی ڈرونز، بارڈر کنٹرول سلوشنز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کی تیاری شامل ہیں۔
یہ شراکت داری اسپیس42 کی افریقہ بھر میں توسیع کی حکمتِ عملی اور حکومتوں کو جدید خلائی و اے آئی ٹیکنالوجی کی فراہمی کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔