یو اے ای اور نیوزی لینڈ کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ نافذ، تجارت 5 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی توقع

ابوظہبی، 27 اگست، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات اور نیوزی لینڈ کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) باضابطہ طور پر نافذ ہوگیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات میں اہم پیش رفت ہے۔ یہ تاریخی معاہدہ جنوری 2025 میں دستخط ہوا تھا اور اب مختلف شعبوں میں اقتصادی تعاون کے لیے مضبوط فریم ورک فراہم کرے گا۔

اس معاہدے کے تحت دوطرفہ سالانہ تجارت 2032 تک بڑھ کر 5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جو اس وقت 2019 سے 2023 کے درمیان اوسطاً 1.5 ارب ڈالر رہی تھی۔ سیپا کے تحت ٹیکسوں میں کمی یا خاتمہ، کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔

یہ نیوزی لینڈ کا مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کے ساتھ پہلا تجارتی معاہدہ ہے، جو اس خطے کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس موقع پر امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہاکہ، ’’یو اے ای–نیوزی لینڈ سیپا کی توثیق ہمارے اقتصادی تعلقات میں تاریخی موڑ ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف تجارتی روابط کو وسعت دے گا بلکہ خوراک کی پیداوار، تعلیم، قابل تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کے نئے دروازے کھولے گا۔‘‘

نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری ٹوڈ مک کلے کے مطابق یہ معاہدہ نیوزی لینڈ کی تجارتی تاریخ میں ایک انقلابی لمحہ ہے۔ سیپا نہ صرف ہمارے برآمدکنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوراک، توانائی، جدت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں شراکت داری کو بھی گہرا کرتا ہے۔‘‘

معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ اماراتی درآمدات کو 100 فیصد ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرے گا، جبکہ امارات نیوزی لینڈ کی 98.5 فیصد مصنوعات کو ڈیوٹی فری کرے گا۔ یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

یو اے ای کا سیپا پروگرام ملک کی غیر ملکی تجارتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، جس کا ہدف 2031 تک کل تجارتی حجم کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانا اور معیشت کے حجم کو 800 ارب ڈالر سے زیادہ کرنا ہے۔ ستمبر 2021 میں آغاز کے بعد سے اب تک امارات 28 ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کر چکا ہے، جن کی مارکیٹیں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔