انسانی ہمدردی سے توانائی تک، یو اے ای اور بیلجیم کا تعاون نئے دور میں داخل

برسلز، 27 اگست 2025 (وام)--بیلجیم کے سب سے بڑے انگریزی روزنامے برسلز ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بیلجیم کے درمیان تعلقات اب محض علامتی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ یہ عالمی استحکام کے تقاضوں کے تحت ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکے ہیں، جو سلامتی، معیشت اور جدت کے شعبوں میں گہرے اشتراک پر مبنی ہیں۔

اخبار کے مطابق اس وقت دنیا غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے اور ایسے میں بیلجیم اور امارات کے تعلقات کو ثانوی نہیں سمجھا جا سکتا۔ غزہ کی جنگ نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ جون میں برسلز میں سب سے بڑے pro-Palestine مظاہرے میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے جنگ بندی اور دو ریاستی حل کے مطالبے کیے۔ عوامی دباؤ کے باعث بیلجیم کی حکومت نے عملی اقدامات کے ذریعے اپنی پالیسی کا اظہار کیا ہے، اگرچہ حکمران اتحاد اب تک فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے پر متفق نہیں ہو سکا۔

اس دوران بیلجیم نے غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی فضائی پروازیں شروع کیں۔ آپریشن سیرو لین اسکائیز 2 کے تحت اگست کے آغاز سے اب تک 190 ٹن خوراک، پانی اور ادویات گرائی جا چکی ہیں، جس نے بیلجیم کو اس کثیرالملکی مہم میں یو اے ای کے بعد دوسرا بڑا شراکت دار بنا دیا۔ یاد رہے کہ امارات 2023 کے آخر سے ہی غزہ میں فضائی امداد پہنچا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپی ہیومینیٹیرین فورم (مئی 2025) کے موقع پر دبئی ہیومینیٹیرین اور یورپی یونین کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے سول پروٹیکشن اینڈ ہیومینیٹیرین ایڈ (DG ECHO) کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا۔ اس پر بیلجیم اور یورپی حکام بھی گواہ تھے۔ اس اقدام نے بیلجیم کے کردار کو محض یورپ کے دارالحکومت کی حد تک محدود نہ رہنے دیا بلکہ اسے وہ پل بنا دیا جس کے ذریعے امارات کی انسانی ہمدردی کی قیادت یورپ میں متعارف ہو رہی ہے۔

اخبار نے لکھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بیلجیم کا رویہ بڑی حد تک امارات جیسا ہے، جہاں عسکری جارحیت کے بجائے سفارتکاری، ڈی اسکیلیشن اور حریفوں کے درمیان پل بنانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ یہ مشترکہ سوچ دونوں ملکوں کو ’’قدرتی اتحادی‘‘ بناتی ہے۔

اقتصادی سطح پر بھی تعاون کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ امارات، عرب دنیا میں بیلجیم کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور 2023 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم 7 ارب یورو رہا۔ اس میں صرف اشیا کی تجارت شامل ہے، خدمات کے شعبے میں بیلجیم کا اثر و رسوخ کہیں زیادہ ہے۔ بیلجیم کی تعمیراتی کمپنی BESIX اور ڈریجنگ کمپنی Jan De Nul نے دبئی کے پالم جبل علی اور ابوظہبی کے سادیات آئی لینڈ جیسے بڑے منصوبوں پر کام کر کے اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون توانائی کی منتقلی، رینیوایبل انرجی، ہائیڈروجن، لاجسٹکس، ڈیجیٹل انوویشن اور فِن ٹیک کے شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔ یورپی یونین اور یو اے ای کے درمیان آزاد تجارتی مذاکرات بھی اس تعلق کو نئے مرحلے تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

برسلز ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ، ’’جب دنیا بڑی طاقتوں کی رقابتوں سے تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں یو اے ای اور بیلجیم حقیقت پسند اور امن کے حامی کردار کے طور پر نمایاں ہیں۔ ان کی شراکت نہ صرف ایک دوسرے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔‘‘