ابوظہبی، 27 اگست 2025 (وام)--اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اماراتی خواتین کا دن منایا، جو اس برس جنرل ویمنز یونین (GWU) کی پچاسویں سالگرہ کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ یونین ’’ام الامارات‘‘، سپریم چیئر وومن فیملی ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن اور سپریم کونسل برائے ماں و بچے کی صدر، عالیہ حضرت شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی قیادت میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔
اس موقع پر ایف اے او نے اعتراف کیا کہ اماراتی خواتین نے قومی ترقی میں خاص طور پر زراعت اور غذائی تحفظ کے میدان میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ادارے کے مطابق یو اے ای نے خواتین کو بااختیار بنانے اور خوراک و زراعت کے شعبے میں ان کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مستقل اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات (MOCCAE) کے تعاون سے ایف اے او نے 2024 کی کھجور کے سیزن میں امارات کا پہلا خواتین کسانوں کا فیلڈ اسکول (FFS) قائم کیا۔ العین کے علاقے ابو سمرا میں شروع ہونے والے اس منصوبے میں آٹھ اماراتی خواتین کسانوں نے حصہ لیا، جو اپنی اپنی کھیتی باڑی کی مالک اور نگران تھیں۔
اس پروگرام میں انہیں کھجور کی پائیدار کاشت اور کیڑوں سے بچاؤ، خصوصاً سرخ کھجور کے سُنڈی کے تدارک کے طریقوں پر عملی تربیت دی گئی۔ اسکول نے خواتین کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں وہ اپنی معلومات کا تبادلہ کر سکیں اور جدید زرعی طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقامی غذائی پیداوار کے نظام کو مضبوط بنا سکیں۔
ایف اے او کے خطے برائے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے نمائندہ ڈاکٹر احمد مختار نے کہا کہ اماراتی خواتین زراعت کے مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کی مہارت، علم اور قیادت میں سرمایہ کاری سے نہ صرف زرعی نظام میں جدت اور لچک پیدا ہوگی بلکہ پائیدار اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔
ڈاکٹر مختار نے مزید کہا کہ خواتین کی خدمات اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ ان کا بااختیار ہونا پائیدار ترقی کے وسیع تر اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور یہ عمل نہ صرف مقامی کمیونٹیز بلکہ پوری قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔