ابوظہبی، 28 اگست، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے یو اے ای میں آسٹریلین بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں طے پانے والے معاہدے کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے دونوں ممالک سنجیدگی سے اقدامات کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر الزیودی نے آسٹریلیا کو ایک کلیدی تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 2024ء میں یو اے ای اور آسٹریلیا کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 4.2 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔ صرف 2025ء کی پہلی ششماہی میں یہ تجارت بڑھ کر 3.03 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33.4 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای آسٹریلیا کا مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا تجارتی و سرمایہ کاری شراکت دار ہے اور عالمی سطح پر اس کا بیسواں بڑا پارٹنر ہے۔ ڈاکٹر الزیودی کے مطابق دونوں ممالک کے نجی شعبے سیپا کے نفاذ کے بعد وسیع تر مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ جب سیپا مکمل طور پر نافذ ہوگا تو اس کے ذریعے ٹیرف کم یا ختم کیے جائیں گے، تجارتی رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی اور مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کی تجارت 2024ء کے 4.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2032ء تک 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ معاہدہ آسٹریلیا کا مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے کسی ملک کے ساتھ پہلا تجارتی معاہدہ ہے اور یو اے ای کی عالمی تجارتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس وقت یو اے ای میں تعمیرات، مالیاتی خدمات، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں 300 سے زائد آسٹریلین کمپنیاں سرگرم عمل ہیں۔
مزید برآں، یو اے ای نے سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ اور پانچ مفاہمتی یادداشتیں بھی طے کی ہیں جن کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی، انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا یو اے ای کو ایلومینا، کوئلہ، اسٹیل، گوشت، ڈیری مصنوعات اور سمندری خوراک برآمد کرتا ہے۔
یو اے ای کا سیپا پروگرام ملکی ترقی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا ہدف 2031ء تک غیر تیل تجارت کا حجم 1.1 ٹریلین ڈالر تک لے جانا اور برآمدات کو 800 ارب ڈالر سے زائد تک بڑھانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی امریکا اور مشرقی یورپ کے ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جا چکے ہیں، جو دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی پر محیط ہیں۔ یو اے ای۔آسٹریلیا سیپا اس وقت دونوں ممالک کی جانب سے توثیق کے عمل سے گزر رہا ہے۔