ابوظہبی، یکم ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے ریئل اسٹیٹ شعبے نے سال 2025 کے آغاز سے اب تک غیر معمولی رفتار سے ترقی کرتے ہوئے اپنی مضبوطی کو برقرار رکھا ہے، جس کی بنیاد تیل و غیر تیل معیشتوں کی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسلسل بہاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ رہائشی، تجارتی اور صنعتی تمام طبقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
بین الاقوامی جائزوں اور مخصوص تجزیاتی رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اماراتی معیشت نے سال 2025 کے دوران اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے، جس کا ثبوت بڑے پیمانے پر نئے منصوبوں کا آغاز، ریکارڈ توڑ فروخت اور کرائے کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہے۔
الرواد رئیل اسٹیٹ کے بانی و سی ای او، اسماعیل الحمادی نے اس حوالے سے کہا کہ تمام امارات میں ہونے والی جائیداد کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس شعبے کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ خصوصاً غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، جہاں بعض منصوبے جن کی تکمیل تین سال بعد متوقع ہے، محض ایک یا دو ہفتوں میں فروخت ہو جاتے ہیں — جو دنیا میں کسی اور مارکیٹ میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
ادھر اسٹرائٹم اونرز ایسوسی ایشن مینجمنٹ کے سی ای او، سعید عبدالکریم الفہیم نے کہا ہے کہ ابوظہبی اور دبئی کی مارکیٹوں میں ہر طرز کی جائیداد — خواہ وہ پرتعیش اپارٹمنٹس ہوں یا درمیانے درجے کے فلیٹس — کی مانگ میں واضح اضافہ ہو رہا ہے، جو اس شعبے میں مسلسل سرگرمی کا مظہر ہے۔
CBRE کی جانب سے جاری ’’یو اے ای ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ریویو – دوسری سہ ماہی 2025‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ ریئل اسٹیٹ شعبہ ملکی معیشت کی بحالی، تیل کی پیداوار میں اضافہ، اور بڑھتی ہوئی غیر ملکی سرمایہ کاری کی بدولت خاصا متحرک ہے۔
دبئی اور ابوظہبی کی رہائشی مارکیٹ میں آف پلان منصوبوں کی مانگ برقرار ہے، جب کہ دونوں شہروں کے دفتری شعبوں میں بھی کرائے اور قبضے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ صنعتی شعبے کی بات کی جائے تو یہاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور ڈیولپرز کی دلچسپی کے باعث لاجسٹکس اثاثوں میں کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
بٹرہومز اور پراپرٹی مانیٹر کے مطابق جولائی 2025 میں دبئی کی رہائشی مارکیٹ نے ترقی کا سفر جاری رکھا، جس میں فروخت اور کرائے دونوں کے لیے مانگ میں اضافہ دیکھا گیا۔ ڈبلیو کیپٹل ریئل اسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے آغاز سے 4 مارچ تک دبئی میں جائیدادوں کی مجموعی فروخت 100 ارب درہم سے تجاوز کر گئی، جب کہ گزشتہ سال یہ حد 22 مارچ کو عبور ہوئی تھی اور 2023 میں 11 اپریل کو۔
پہلی ششماہی میں دبئی کی پراپرٹی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 233 ارب درہم سے بڑھ کر 326.64 ارب درہم تک جا پہنچی۔
نائٹ فرینک کے مطابق دبئی نے لگاتار دوسرے سال دنیا کی ایسی سب سے بڑی مارکیٹ کا درجہ برقرار رکھا ہے جہاں 10 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی رہائش گاہیں فروخت ہو رہی ہیں۔ 2024 کے دوران اس زمرے میں 435 سودے کیے گئے، جو لندن اور نیویارک کی مجموعی فروخت کے قریب تر ہیں۔