ابوظہبی، 3 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ وزارتی فیصلہ نمبر 265/2023 کو ختم کرتے ہوئے اس کی جگہ وزارتی فیصلہ نمبر 229/2025 جاری کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کارپوریٹ ٹیکس کے تحت فری زونز میں اہل اور مستثنیٰ سرگرمیوں کے دائرہ کار کو واضح کرتا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت کموڈیٹی ٹریڈنگ کی اہل سرگرمیوں کے دائرہ کو وسعت دیتے ہوئے اس میں صنعتی کیمیکلز، اہل اجناس کے ضمنی مصنوعات، اور ماحولیاتی کموڈیٹیز کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ فریقین کے لیے ٹریژری اور فنانسنگ خدمات کے بارے میں بھی وضاحت دی گئی ہے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ وزارتی فیصلہ نمبر 230/2025 بھی جاری کیا گیا ہے، جو تسلیم شدہ پرائس رپورٹنگ ایجنسیز کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ اقدام ٹیکس دہندگان کے لیے قیمتوں کے تعین کے معاملے میں وضاحت اور شفافیت فراہم کرے گا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق فری زونز متحدہ عرب امارات کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جو سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور کاروباری ماحول کو سہل بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد ملکی معیشت کو مزید متنوع بنانا اور بین الاقوامی ٹیکس معیارات کے مطابق کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔
اہم تبدیلیاں
اب اہل کموڈیٹی ٹریڈنگ کے لیے “خام شکل (Raw Form)” کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد میٹلز، معدنیات، صنعتی کیمیکلز، توانائی اور زرعی اجناس اور ان کی ضمنی مصنوعات کی تجارت ممکن ہو گی، بشرطیکہ ان کے لیے قیمت کا حوالہ تسلیم شدہ ایکسچینج یا پرائس رپورٹنگ ایجنسی سے دستیاب ہو۔
ٹریژری اور فنانسنگ خدمات میں اب سیلف انویسٹمنٹ کی گنجائش دی گئی ہے، چاہے یہ خدمات متعلقہ فریقین کو فراہم کی جائیں یا ٹیکس دہندگان اپنے لیے کریں۔
ڈیزائنٹڈ زونز میں سامان یا مواد کی تقسیم اب پبلک بینیفٹ اداروں سے لین دین کی اجازت دے گی، اور اس سے 'de-minimis threshold' پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
وزارت کے مطابق، متحدہ عرب امارات کا مؤثر کارپوریٹ ٹیکس نظام اور فری زونز میں اہل سرگرمیوں کے لیے مراعاتی پالیسی ملک کو ایک عالمی کاروباری مرکز کے طور پر مزید مضبوط بناتی ہے اور پائیدار ترقی کے قومی ایجنڈے کو سہارا دیتی ہے۔