ابوظہبی، 3 ستمبر، 2025 (وام)--ابوظہبی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین، شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے 22ویں ابوظہبی انٹرنیشنل ہنٹنگ اینڈ ایکویسٹرین ایگزیبیشن (ADIHEX 2025) کا دورہ کیا۔ یہ نمائش "ورثہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے" کے عنوان کے ساتھ ایڈنیک گروپ کے زیر اہتمام اور امارات فالکنرز کلب کے تعاون سے 7 ستمبر تک ابوظہبی کے ایڈنیک سینٹر میں جاری رہے گی۔
دورے کے دوران، شیخ خالد نے مختلف پویلینز کا معائنہ کیا اور شکار و گھڑ سواری سے متعلق جدید آلات اور عالمی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا۔ نمائش میں 15 سے زائد مختلف شعبے شامل ہیں جن میں بازبانی، شکار، گھڑ سواری، روایتی فنون، دستکاری، کیمپنگ اور ماحولیاتی تحفظ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں اماراتی روایات کو اجاگر کرنے اور قومی ثقافتی ورثے کی اصل روح کو سامنے لانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔
ولی عہد نے شرکاء کی جانب سے پیش کی جانے والی ان کوششوں کو سراہا جن کا مقصد روایتی اقدار کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ذریعے ورثے کو محفوظ بنانا اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ثقافتی ورثہ قومی شناخت کو مستحکم بنانے کی بنیاد ہے اور اس کی قدریں موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔
شیخ خالد نے مزید کہا کہ یہ نمائش ابوظہبی کے اس وژن کی عکاسی کرتی ہے جس میں تراث کے تحفظ اور جدت کو یکجا کرنے کا تصور شامل ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایگزیبیشن عوامی شعور کو بیدار کرنے اور قومی فخر کی علامت کے طور پر ورثے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔
اس موقع پر ان کے ہمراہ متعدد اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جن میں ابو ظہبی کے ولی عہد عدالت کے چیئرمین شیخ خلیفہ بن تحنون بن محمد النہیان، شیخ زاید بن سعید بن زاید النہیان، محکمہ ثقافت و سیاحت – ابوظہبی کے چیئرمین محمد خلیفہ المبارک، ابوظہبی ہیریٹیج اتھارٹی کے چیئرمین فارس خلف المزروعی، ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے سیکریٹری جنرل سیف سعید غباش، اور ادنےک گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او حُمید مطر الظاہری شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق، 2003 میں آغاز کے بعد سے یہ نمائش اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ہے۔ اس سال کے ایڈیشن میں 68 ممالک کی 2,068 نمایاں کمپنیاں اور برانڈز شریک ہیں، جس سے یہ تقریب نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ نمائش شکار، گھڑ سواری اور کیمپنگ کے شائقین کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے کے فروغ دینے والوں کے لیے بھی ایک نمایاں عالمی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔