ابوظہبی، 7 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے اپنے ڈیجیٹل نظام کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کریے ہیں۔ اماراتی سائبر سیکیورٹی کونسل (CSC) نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مناسب حفاظتی تدابیر نہ اپنائی جائیں تو اسمارٹ ہوم ڈیوائسز کا تقریباً 70 فیصد حصہ سائبر حملوں کی زد میں آ سکتا ہے۔
کونسل کے مطابق گھروں میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز جیسے وائس اسسٹنٹس، نگرانی کے کیمرے، اسمارٹ لائٹنگ اور ایئر کنڈیشننگ سسٹمز ہیکرز کے لیے پرکشش ہدف بن چکے ہیں، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جن کی سیکیورٹی آگاہی کم ہے یا جو ڈیوائسز کی ڈیفالٹ سیٹنگز پر انحصار کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خطرناک رویوں میں وائس اسسٹنٹس کو مستقل فعال رکھنا، غیر محفوظ نیٹ ورک سے منسلک کرنا یا مہمانوں کو گھر کا مرکزی وائی فائی پاس ورڈ فراہم کرنا شامل ہے، جس سے ڈیٹا افشا ہو سکتا ہے اور ہیکرز کو ڈیوائسز پر ریموٹ کنٹرول مل سکتا ہے۔
کونسل نے اسمارٹ گھروں میں استعمال ہونے والے بے بی مانیٹرز کو بھی انتہائی حساس قرار دیا، جو اگر محفوظ نہ ہوں تو ہیکرز انہیں آسانی سے ہیک کر کے گفتگو ریکارڈ کرنے، گھریلو حرکات و سکنات پر نظر رکھنے یا بچوں اور اہل خانہ سے براہِ راست رابطہ کرنے تک کے قابل ہو سکتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کونسل نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں، اسمارٹ ڈیوائسز کے سسٹمز باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں اور تمام ڈیوائسز کو ایک مرکزی نظام کے تحت منظم کریں تاکہ ممکنہ رسائی کے راستے کم ہو سکیں۔ اس کے علاوہ وائس اسسٹنٹس کو ضرورت نہ ہونے پر بند رکھا جائے، سیکیورٹی اور پرائیویسی سیٹنگز فعال کی جائیں اور اسمارٹ ڈیوائس نیٹ ورکس کو مرکزی وائی فائی سے الگ رکھا جائے۔
کونسل نے اپنی آگاہی مہم "سائبر پلس" کے تحت اس ہفتے کو اسمارٹ ہوم ڈیوائسز کو درپیش خطرات کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے مخصوص کیا ہے تاکہ خاندانوں کو اپ ڈیٹس کی اہمیت اور عملی اقدامات کے ذریعے سائبر خطرات سے بچنے کے طریقے سکھائے جا سکیں۔