متحدہ عرب امارات کا ایٹمی میدان میں قبل ذکر سنگِ میل، براکہ پلانٹ سے ایک سال میں 25 فیصد بجلی کی پیداوار

ابوظہبی، 8 ستمبر 2025 (وام)--امارات نیوکلیئر انرجی کمپنی (اینک) نے اعلان کیا ہے کہ براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ کو مکمل طور پر فعال ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا ہے، جہاں چاروں APR1400 ری ایکٹر یونٹس متحدہ عرب امارات کی 25 فیصد بجلی کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران، براکہ پلانٹ نے 40 ٹیرا واٹ آور صاف توانائی پیدا کی، جو ٹیکنالوجی، صنعت اور عوامی ضروریات کو بلا تعطل بجلی فراہم کر رہی ہے۔ منصوبے کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 120 ٹیرا واٹ آور سے زائد بجلی پیدا کی جا چکی ہے، جو نیویارک شہر کی سالانہ بجلی کی کھپت کے برابر ہے۔

براکہ کو خطے میں سب سے بڑے صاف توانائی کے منصوبے کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ذریعہ ہے بلکہ توانائی کے شعبے کو کاربن فری بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

براکہ منصوبے کو دنیا بھر میں تیزی سے مکمل ہونے والے اور مؤثر جوہری منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں یونٹ 1 سے 4 کے درمیان 40 فیصد لاگت، وقت اور مزدور کی کمی کے ساتھ کام مکمل کیا گیا۔ ہر یونٹ کی تعمیر میں اوسطاً 7.9 سال کا عرصہ لگا۔

یاد رہے کہ براکہ پلانٹ کی تعمیر جولائی 2012 میں شروع ہوئی تھی، جبکہ چوتھے یونٹ نے ستمبر 2024 میں پیداوار کا آغاز کیا۔ 2015 میں چوتھے یونٹ کی تعمیر کے ساتھ براکہ دنیا کی سب سے بڑی جوہری تعمیراتی سائٹ بن گیا تھا۔

اس موقع پر اینک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او محمد الحمادی نے کہا کہ، "ایک سال مکمل ہونے پر ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ براکہ پلانٹ اپنا وعدہ پورا کر رہا ہے – صاف، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی۔ یہ کامیابی متحدہ عرب امارات کی دور اندیشی، تسلسل سے کی گئی سرمایہ کاری اور معیاری عملدرآمد کا نتیجہ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پلانٹ ہر سال 22.4 ملین ٹن کاربن گیسوں کے اخراج کو روک رہا ہے، جو اب تک 58 ملین ٹن کاربن کے برابر آلودگی کو روک چکا ہے – یہ ایسے ہے جیسے ایک کروڑ 20 لاکھ گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا دی گئی ہوں۔

براکہ پلانٹ، ادنوک، ایمسٹیل، اور ای جی اے جیسے اداروں کو کلین انرجی سرٹیفیکیٹس فراہم کر رہا ہے، جن کی بدولت یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کو کم کاربن والے طور پر ظاہر کر سکتی ہیں۔ ای جی اے نے حال ہی میں کم کاربن ایلومینیم "MinimAL" کی پہلی کھیپ بھی لانچ کی ہے۔

براکہ پلانٹ کو کوریا الیکٹرک پاور کارپوریشن 'KEPCO' کے اشتراک سے مکمل کیا گیا، جس پر وفاقی ایٹمی ریگولیٹری اتھارٹی کی نگرانی رہی۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی جوہری ادارے 'IAEA' اور عالمی ایٹمی تنظیم ‘WANO’ کے معیار پر پورا اترا ہے۔

منصوبے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں 2,000 سے زائد اماراتی شہریوں نے کلیدی کردار ادا کیا، جو مقامی جوہری مہارت کو فروغ دینے کی علامت ہے۔