شارجہ میں "بریج سمٹ 2025" کی تیاریوں کا خصوصی پروگرام، میڈیا اور حکومتی ابلاغ کے مستقبل پر گفتگو

شارجہ، 11 ستمبر، 2025 (وام)--عالمی سطح پر میڈیا، مواد اور تفریحی صنعت کے سب سے بڑے اجتماع بریج سمٹ 2025 کی تیاریوں کے سلسلے میں شارجہ میں خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب 14ویں انٹرنیشنل گورنمنٹ کمیونیکیشن فورم (آئی جی سی ایف) کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں میڈیا، فنون، مواد کی صنعت کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ حکومتی عہدیداران اور ابلاغ کے ماہرین نے شرکت کی۔

اس موقع پر بریج کے وژن کو اجاگر کیا گیا جس کا مقصد میڈیا، مواد اور تفریحی شعبوں کے درمیان عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ شرکاء کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور جدید ابلاغی طریقوں پر بات چیت کا موقع ملا، جبکہ شارجہ نے اپنی حیثیت کو حکومتی ابلاغ کے مستقبل کی تشکیل کے لیے ایک نمایاں پلیٹ فارم کے طور پر مزید مستحکم کیا۔

تقریب کے افتتاحی کلمات میں یو اے ای نیشنل میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اور بریج کے نائب چیئرمین ڈاکٹر جمال محمد عبید الکعبی نے کہا کہ آئی جی سی ایف دراصل شارجہ سے بریج کے آغاز کے لیے قدرتی پلیٹ فارم ہے، کیونکہ یہ حکومتی ابلاغ کو میڈیا اور مواد کی صنعت کا مرکز قرار دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آج میڈیا صرف اسکرین یا اخبار نہیں بلکہ ایک ایسا جامع نظام ہے جو شعور، ترقی اور اقوام کے تعلقات پر اثرانداز ہوتا ہے۔

ڈاکٹر الکعبی نے کہا کہ تخلیق کاروں، سرمایہ کاروں اور تقسیم کاروں کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے کوئی متحدہ پلیٹ فارم موجود نہیں، اور بریج اسی خلا کو حتم کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مستقل نظام قائم کر رہا ہے جس کا مقصد میڈیا اور مواد کا مستقبل تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج حکومتی ابلاغ صرف سرکاری بیانات تک محدود نہیں بلکہ ڈرامہ، سنیما، تفریحی مواد اور عوامی مکالمے کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بریج سمٹ 2025 صرف ایک میڈیا فورم نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر وژن ہے، جو میڈیا، مواد اور تفریح کو ترقی، ثقافت اور تہذیب کی اساس کے طور پر اجاگر کرے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ، "یو اے ای خطے کے مرکز سے ایسا پلیٹ فارم قائم کر رہا ہے جو بین الاقوامی مواقع اور شراکت داریوں کے ذریعے ایک مستقل اور پائیدار نظام تشکیل دے گا۔"

تقریب میں ایک پینل ڈسکشن "دیواریں نہیں، پل بنائیں" بھی شامل تھا، جس میں معروف مواد تخلیق کار طارق سکیق نے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مواد تخلیق کرنے کا مقصد صرف شہرت یا تفاعل نہیں بلکہ انسان کی یہ داخلی خواہش ہے کہ وہ اپنے وقت اور نسل سے آگے کوئی ایسی چھاپ چھوڑے جو ثقافت اور تخلیقی ورثے کی گواہی دے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو تقسیم کرنے کے بجائے ایسا مواد تخلیق کیا جانا چاہیے جو قوموں کی اصل پہچان اور تہذیبی کردار کو نمایاں کرے۔

ایک اور نشست "میڈیا کے ایسے نظام کے خدوخال جو معاشرے کو مضبوط بنائے" میں ماہرِ تعلیم و تجزیہ کار ڈاکٹر معتص عبدالفتاح نے گفتگو کی جس میں انہوں نے میڈیا کے اخلاقی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا محض حقائق پھیلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ بنیادی سماجی اقدار کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے یو اے ای کی میڈیا ریگولیشن کی کامیاب مثال کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ میڈیا کو تعلیمی اداروں اور دیگر سماجی مکالمات کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل کے میڈیا میں اہم کردار ادا کرے گی اور اصل چیلنج اس کے خطرات سے بچاؤ کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔