شارجہ، 11 ستمبر, 2025 (وام)--شارجہ نے رئیل اسٹیٹ شعبے کی ترقی کو ایک نئی جہت دی ہے جہاں پائیداری، معیارِ زندگی اور عالمی سرمایہ کاری کو اپنی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔ انٹرنیشنل گورنمنٹ کمیونیکیشن فورم (آئی جی سی ایف 2025) کے موقع پر ماہرین نے دکھایا کہ کس طرح شارجہ نے معاشی ترقی کو ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ جوڑ کر ایک کامیاب ماڈل تشکیل دیا ہے۔
"شارجہ رئیل اسٹیٹ سے معیار زندگی کی حکمت عملی تک" کے عنوان سے ہونے والے سیشن میں سعود عبدالعزیز الخیال، ڈپٹی ڈائریکٹر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری ڈیپارٹمنٹ، اور انجینئر عبداللہ محمود سالم، ہیڈ انجینئرنگ اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ، نے اپنے تجربات پیش کیے۔ سیشن کی میزبانی امل عبید حدید نے کی۔
سعود الخیال نے کہا کہ شارجہ ایک منفرد اور پائیدار ماڈل پیش کر رہا ہے جس نے امارت کو عالمی سرمایہ کاری کی منزل بنا دیا ہے، جہاں رہائش، روزگار اور استحکام ایک ساتھ فراہم ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 2025 کی پہلی ششماہی میں 109 ممالک کے 6,600 سے زائد سرمایہ کاروں نے شارجہ میں سرمایہ کاری کی، جن کی لین دین کی مجموعی مالیت 27 ارب درہم سے تجاوز کر گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شارجہ نے 2019 میں "شارجہ سسٹین ایبل سٹی" کا آغاز کیا جو ری سائیکلنگ اور جدید صفائی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک مربوط منصوبہ ہے۔ پہلے مرحلے میں 60 فیصد رقبہ سبزے کے لیے مختص کیا گیا اور تمام 1000 یونٹ ایک ہی دن میں فروخت ہو گئے۔ اب مرحلہ سوم کے تحت ایک لاکھ درخت لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انجینئر عبداللہ محمود سالم نے ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی پائیدار تعمیراتی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ "گرین کنکریٹ" کے استعمال سے توانائی کی کھپت میں 30 فیصد کمی اور کاربن کے اخراج میں 80 فیصد تک کمی ممکن ہوئی ہے، جس کے مثبت اثرات معیشت اور صحت دونوں پر پڑے ہیں۔
انہوں نے حفاظتی اقدامات میں "حسانتک" نامی اسمارٹ سسٹم کا ذکر کیا، جو سول ڈیفنس کے ساتھ منسلک ہے اور آگ لگنے کی صورت میں بروقت انتباہ فراہم کرتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ شارجہ خطے میں پائیدار، سرمایہ کار دوست اور سماجی طور پر ذمہ دار رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں قیادت کر رہا ہے، جہاں رہائشیوں اور سرمایہ کاروں دونوں کو جدید، محفوظ اور اعلیٰ معیار کی زندگی فراہم کی جا رہی ہے۔