یو اے ای جنرل بجٹ کمیٹی کا اجلاس، مالی سال 2026 کے مسودہ بجٹ پر غور

ابوظہبی، 24 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی جنرل بجٹ کمیٹی کا 14واں اجلاس منعقد ہوا جس میں مالی سال 2026 کے مسودہ بجٹ پر غور کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت نائب صدر، نائب وزیرِ اعظم اور صدارتی دیوان کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان نے کی۔ اس موقع پر دبئی کے پہلے نائب حکمران، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خزانہ شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم بھی موجود تھے۔

اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے مالی امور محمد بن ہادی الحسینی، گورنر مرکزی بینک خالد محمد بالامہ التمیمی، صدارتی دیوان اور وزارتِ خزانہ کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں 2026 کے بجٹ ڈرافٹ پر غور کیا گیا، جو 2022–2026 کے بجٹ پلان کا حصہ ہے۔ یہ مسودہ ان اپڈیٹس اور ہدایات کے مطابق تیار کیا گیا ہے جو کمیٹی کے 13ویں اجلاس (10 جولائی 2025) میں دی گئی تھیں۔ وزارتِ خزانہ نے تمام وفاقی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد اور پبلک فنانس سے متعلق 2019 کے وفاقی فرمان قانون نمبر (26) اور اس کی ترامیم کے تحت ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ 2026 کا مسودہ بجٹ کابینہ کو پیش کیا جا سکے۔

کمیٹی نے مالی سال 2025 کے کیش فلو کا بھی جائزہ لیا جو اگست کے آخر تک کی آمدنی کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، اور ساتھ ہی 2026 کے لیے مجموعی آمدنی کے تخمینے بھی زیرِ غور لائے گئے جن میں نئے ٹیکس قوانین اور وفاقی اداروں کی جانب سے آمدنی کی توقعات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، اجلاس میں مالی سال 2025 کے دوران اخراجات اور آمدنی کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا، جن سے ملک کے مختلف شعبوں اور اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں پیش رفت ظاہر ہوئی۔ کمیٹی نے وفاقی اداروں کی جانب سے اسٹریٹجک منصوبوں کی فنڈنگ کی درخواستوں پر بھی غور کیا اور ضروری ہدایات جاری کیں۔ مزید برآں، 2025 کے دوران مکمل کیے گئے ترقیاتی اور سرمایہ جاتی منصوبوں کی تازہ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ وفاقی بجٹ ملک کی پائیدار ترقی کے سفر میں ایک بنیادی ستون ہے اور قیادت کی ہدایات کے مطابق سماجی و ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بجٹ لچکدار انداز میں تیار کیا گیا ہے تاکہ بدلتے حالات اور نئی ہدایات کے مطابق اس کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے، اور وفاقی حکومت میں مالیاتی کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کی اس کوشش کو سراہا کہ اس نے 2026 کے بجٹ مسودے کو اپ ڈیٹ کیا اور تمام وفاقی اداروں کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی قائم رکھی۔

واضح رہے کہ کابینہ پہلے ہی مالی سال 2025 کا بجٹ منظور کر چکی ہے، جس میں آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ 71.5 ارب درہم رکھا گیا ہے۔ یہ بجٹ اس اصول کے تحت تیار کیا گیا ہے کہ مالی وسائل اور عوامی اخراجات میں توازن برقرار رکھا جائے۔