اقوام متحدہ میں امریکہ اور عرب و اسلامی ممالک کا اجلاس، غزہ میں جنگ بندی اور تعمیرِ نو پر زور

نیویارک، 24 ستمبر، 2025 (وام)--اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر ہائی لیول ویک کے دوران امریکہ اور آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک کثیرالجہتی اجلاس اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔ یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی دعوت پر بلایا گیا۔

اجلاس میں عرب اور او آئی سی ممالک کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے غزہ کی ناقابلِ برداشت انسانی صورتحال، بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور اس کے خطے اور پوری مسلم دنیا پر سنگین اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ رہنماؤں نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بے گھر افراد کی واپسی ناگزیر ہے۔

شرکاء نے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور ایک منصفانہ و پائیدار امن کے قیام کے لیے ان کی قیادت نہایت اہم ہے۔

اجلاس میں مغربی کنارے اور بیت المقدس کے مقدس مقامات میں استحکام کو یقینی بنانے، اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات کی حمایت پر بھی زور دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دینا ضروری ہے، جو عرب اور او آئی سی کے منصوبے پر مبنی ہو اور جسے بین الاقوامی برادری کی مدد حاصل ہو۔ اس مقصد کے لیے فلسطینی قیادت کی بھرپور حمایت اور باہمی تعاون کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔

شرکاء نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ اس اجلاس کے بعد عمل کا ایک ایسا تسلسل قائم رہے جو امن اور خطے میں تعاون کے بہتر مستقبل کی جانب ایک صحیح قدم ثابت ہو۔