دبئی، 24 ستمبر، 2025 (وام)--محمد بن راشد لیڈرشپ فورم میں منعقدہ ایک سیشن بعنوان ’’ٹیکنالوجی اور آئندہ دہائی میں ڈیجیٹل تبدیلیاں‘‘ میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ممالک اور ادارے کس طرح مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور جدید ڈیجیٹل ماحول جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپناتے ہوئے محفوظ، جامع اور انسان دوست ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
اس موقع پر سائبرس فاؤنڈیشن اور پازیٹو ٹیکنالوجیز کے شریک بانی یوری ماکسموف نے زور دیا کہ ڈیجیٹل نظاموں کو شروع ہی سے سکیورٹی، اعتماد اور مضبوطی کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن حکومتی نگرانی سے آگے نکل چکی ہے، اس لیے لازمی ہے کہ معیاری اصول بنائے جائیں، اہم نظاموں کو بروقت جانچا جائے اور ایسی خودکار پلیٹ فارمز تشکیل دیے جائیں جو غلطیوں اور حملوں کے خلاف مزاحمت رکھیں۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کو ایک موقع اور ایک چیلنج دونوں قرار دیا اور کہا کہ دبئی جدید ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی ایک شاندار مثال ہے، جو اسے جدت اور تحفظ کے امتزاج کا عالمی ماڈل بناتا ہے۔ ماکسموف نے مزید کہا کہ دبئی کے پاس خطے میں سائبر سکیورٹی کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت ہے، کیونکہ اس کے پاس جدید انفراسٹرکچر، وژنری قیادت اور اسٹریٹیجک جغرافیائی حیثیت موجود ہے۔
مباحثے میں نظامی خطرات سے تحفظ، جدید ٹیکنالوجیز کو حکمتِ عملی کے ساتھ اپنانے اور انسان دوست جدت جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ شرکاء نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دبئی کی ڈیجیٹل تبدیلی کس طرح کمیونٹیز کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے محفوظ اور پائیدار جدت میں اس کے عالمی قائدانہ کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
محمد بن راشد لیڈرشپ فورم میں حکومت اور نجی شعبے کے ایک ہزار سے زائد رہنما شریک ہوتے ہیں، جہاں وہ خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں تاکہ دبئی کو دنیا کا بہترین شہر بنایا جا سکے۔