ابوظہبی، 24 ستمبر 2025 (وام)--
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے دوران ہائی لیول ویک کے موقع پر امریکہ اور آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ایک کثیرالجہتی اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی دعوت پر بلایا گیا، جس کی صدارت صدر ٹرمپ اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے مشترکہ طور پر کی۔
اجلاس میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبینتو، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، مصر کے وزیراعظم مصطفی کمال مدبولی، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے شرکت کی۔
شرکاء نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے غزہ کی سنگین انسانی صورتحال، بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور اس کے خطے اور مسلم دنیا پر اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ رہنماؤں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا کہ بے گھر افراد کی واپسی لازمی ہے۔
مذاکرات میں فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا تاکہ قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن ہو سکے۔ رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جنگ کا خاتمہ صرف ایک منصفانہ اور دیرپا امن سے ہی ممکن ہے، جس کے لیے صدر ٹرمپ کی قیادت کو اہم قرار دیا گیا۔
اجلاس میں مغربی کنارے اور بیت المقدس کے مقدس مقامات پر استحکام یقینی بنانے اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات کی حمایت پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ غزہ کی تعمیر نو کے لیے جامع منصوبہ بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، جو عرب اور او آئی سی کے منصوبے پر مبنی ہو اور جسے بین الاقوامی برادری کی مدد حاصل ہو۔
شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ فلسطینی عوام کی زندگیوں کو دوبارہ سنوارنے اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ یہ ملاقات امن اور خطے میں تعاون کے ایک نئے سفر کا آغاز ثابت ہونی چاہیے۔