دبئی، 25 ستمبر، 2025 (وام)--دبئی میں جاری چوتھی دبئی ورلڈ کانگریس فار سیلف ڈرائیونگ ٹرانسپورٹ 2025 کے دوسرے دن ماہرین نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ریگولیٹری اور قانون سازی کے ادارے گرین آٹونومس لاجسٹکس میں ماہرین کا اعتماد بڑھانے، اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کو فروغ دینے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اعتماد اور مہارت اس شعبے میں جدت اور مصنوعی ذہانت و روبوٹکس کی ترقی کے لیے سب سے اہم عوامل ہیں۔ ان ہی کے ذریعے گرین آٹونومس لاجسٹکس کے بنیادی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، جن میں ٹرانسپورٹ کی کارکردگی میں بہتری، اخراجات میں کمی، انسانی غلطیوں سے ہونے والے حادثات کی روک تھام اور سفر کے وقت میں کمی شامل ہیں۔
پینل ڈسکشن ’’دی فیوچر آف گرین آٹونومس لاجسٹکس‘‘ کے دوران زیلوس کے شریک بانی ڈاکٹر شوچن ژانگ اور اوکسا کے شریک بانی و سی ٹی او پال نیومین نے کہا کہ مستقبل میں آٹونومس لاجسٹکس کا استعمال بڑھتا جائے گا، جس سے ٹرانسپورٹ آپریشنز مزید مؤثر اور کارآمد بنیں گے۔ اس سیشن کی نظامت سیمولیٹک کے بانی اینڈی گل نے کی۔
ڈاکٹر شوچن ژانگ نے کہا کہ خودکار گاڑیوں کے فروغ کے لیے عالمی شراکت داریوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آٹونومس ڈرائیونگ سسٹمز انسانی ڈرائیورز کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ محفوظ ہیں، اور یہ پیداواری اخراجات کو بھی کم کرتے ہیں۔
پال نیومین نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت کا مطلب انسانوں کی جگہ لینا نہیں، بلکہ ان کی معاونت اور کام کو آسان بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ گرین آٹونومس لاجسٹکس کے لیے مضبوط بنیادیں اور آزاد آپریشنل فریم ورکس تیار کیے جائیں تاکہ دیگر کمپنیاں بھی اپنے مستقبل کے کاروبار زیادہ مؤثر اور معیاری انداز میں قائم کر سکیں۔