ابوظہبی، یکم اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک (سی بی یو اے ای) کے گورنر خالد محمد بالما نے انٹرنیشنل آپریشنل رسک ورکنگ گروپ (IORWG) کی 19ویں سالانہ کانفرنس کا افتتاح کیا، جو 30 ستمبر تا 2 اکتوبر ابوظہبی میں منعقد ہو رہی ہے۔
یہ کانفرنس قومی اور بین الاقوامی سطح پر رسک مینجمنٹ کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے سی بی یو اے ای کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے اور آپریشنل رسک مینجمنٹ کے جدید طریقۂ کار اور ریگولیٹری کنٹرولز کو بہتر بنانے کی کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔
اس مقصد کے تحت مالیاتی استحکام کو بڑھانے کے لیے جدید آلات اور طریقۂ کار متعارف کرائے جا رہے ہیں، جب کہ آپریشنل خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تعاون اور مہارت کے تبادلے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اس اعلیٰ سطحی عالمی پلیٹ فارم میں دنیا کے 100 ممالک کے مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے رہنما اور فیصلہ ساز شریک ہیں، جب کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)، یورپی مرکزی بینک (ECB) اور بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (BIS) کے سینئر عہدیدار بھی موجود ہیں۔ کانفرنس کا مقصد آپریشنل رسک مینجمنٹ میں اپنائی گئی بہترین حکمتِ عملیوں اور خیالات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
اماراتی قیادت کے وژن کی روشنی میں گورنر خالد محمد بالما نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ملک اپنی پوزیشن کو ایک نمایاں عالمی مالیاتی اور ٹیکنالوجی حب کے طور پر مستحکم کر رہا ہے جو اقتصادی ترقی کو آگے بڑھاتا اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے "وی دی یو اے ای 2031" وژن کے تحت مالیاتی شعبے کو مستقبل کے لیے تیار بنانے اور چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کو اجاگر کیا۔
کانفرنس تین کلیدی موضوعات جیسے مربوط رسک مینجمنٹ جو جدید گورننس، رسک تجزیہ اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے معاونت یافتہ ہے، وینڈر اور تھرڈ پارٹی رسک اور انفرادی رسک کے گرد منعقد ہو رہی ہے۔
اس کے علاوہ رسک میں کمی، آپریشنل پروسیس مینجمنٹ کی ترقی اور پالیسی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
گورنر نے واضح کیا کہ آپریشنل لچک میں اضافہ سی بی یو اے ای کے ریگولیٹری ایکشن پلان کی سب سے بڑی ترجیح ہے، خاص طور پر تیز رفتار ٹیکنالوجی ترقی سے پیدا ہونے والے نئے خطرات کے تناظر میں۔ اس مقصد کے لیے مرکزی بینک نے حال ہی میں آپریشنل رسک مینجمنٹ کے نئے ضوابط اور معیارات وضع کیے ہیں جو اب تمام لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں پر لاگو ہوں گے، جو باسل کمیٹی برائے بینکاری نگرانی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہیں۔
مزید یہ کہ تیسرے فریق کے رسک مینجمنٹ، سائبر ریزیلینس، بزنس کنٹینیوٹی اور ڈیزاسٹر ریکوری پلاننگ پر معیارات تیار کیے جا رہے ہیں، جب کہ افرادی قوت کی استعداد بڑھانے کے لیے ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ اور دیانتداری کے کلچر کو فروغ دینے پر بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
مالیاتی شعبے میں اختراعات کو آگے بڑھانے کے لیے سی بی یو اے ای نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور پائیداری کی حمایت پر مبنی اقدامات کیے ہیں۔ اس سفر میں ایک اہم سنگِ میل 2024 میں اوپن فنانس ریگولیشن کا اجراء تھا جو خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا ضابطہ ہے۔ یہ اقدام ڈیٹا پر مبنی ترقی کو فروغ دینے اور تیسرے فریق کے سروس فراہم کنندگان کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
ایک اور نمایاں اقدام سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) ہے، جو اماراتی مالیاتی شعبے کی ارتقائی تاریخ کا اہم موڑ ہے، جو جدید اختراعات کو مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔