دبئی، یکم اکتوبر، 2025 (وام)--بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے کمال بن محمد الجنیدی کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی تعاون ایک اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو بالخصوص پائیداری اور میری ٹائم سیفٹی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کی بدولت دونوں ممالک کی حیثیت کو عالمی سمندری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مزید مستحکم کرتی ہے۔
امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے، ورلڈ میری ٹائم ڈے پیرا لَل ایونٹ 2025 کے موقع پر، الجنیدی نے کہا کہ سعودی عرب بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی نمایاں منصوبہ جات کی بھرپور معاونت کرتا رہا ہے، جن میں آئی ایم او کیئرز، گلو نائس پارٹنرشپ، سرکلر لیٹرز، گلو فاؤلنگ پارٹنرشپس اور نیکسٹ ویو سی فیئررز پروجیکٹ شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت سعودی جہازوں پر جزائر اور ترقی پذیر ممالک کے تقریباً 20 افراد کی تربیت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی وژن 2030 کے آغاز سے ہی مملکت نے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے کو اسٹریٹجک ستون قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں اسمارٹ پورٹس کی ترقی، کارگو ہینڈلنگ کی استعداد میں بہتری اور افرادی قوت کی تربیت کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالا گیا ہے تاکہ میری ٹائم صنعت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔
الجنیدی نے بتایا کہ سعودی عرب ڈیڈ ویٹ ٹنیج کے لحاظ سے خطے میں پہلے اور عالمی سطح پر 20ویں نمبر پر ہے، اور اس کے جہاز سعودی پرچم تلے دنیا بھر کی بندرگاہوں پر اعلیٰ حفاظتی معیارات کے مطابق رواں دواں ہیں۔ مملکت پائیدار میری ٹائم ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانے اور ماحولیاتی بین الاقوامی اقدامات میں شمولیت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔