دبئی، 2 اکتوبر، 2025 (وام)--موڈیز ریٹنگز کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گلوبل ہیڈ آف سسٹین ایبل فنانس، راؤل گوش نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات پائیدار مالیات کے ایک نمایاں عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کر رہا ہے۔
انہوں نے ملک کی سبز جدت کو روایتی توانائی کے ذرائع سے آگے بڑھا کر جدید صنعتوں اور ٹیکنالوجیز تک وسعت دینے کی تعریف کی۔ عالمی گرین اکانومی سمٹ کے موقع پر وام سے گفتگو کرتے ہوئے گوش نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز بڑے پیمانے پر توانائی استعمال کرنے والے شعبوں میں شمار ہوتے ہیں اور سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان کے باعث اس شعبے کی طلب پانچ گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اخراجات میں کمی کا کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے تیز رفتار استعمال سے آئندہ دہائی میں عالمی اخراجات میں پانچ فیصد یا اس سے زیادہ کمی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ امارات میں اب اختراعات کم کاربن اسٹیل، کم اخراج والے سیمنٹ، اور توانائی و پانی کی بچت کرنے والے ڈیٹا سینٹرز تک پھیل چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصدَر نے گرین بانڈز میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ڈی پی ورلڈ نے خطے کا پہلا ’’بلیو صکوک‘‘ جاری کیا جس کا مقصد بندرگاہی ڈھانچے کی معاونت اور بحری آلودگی کے خلاف اقدامات ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی شعبہ پائیدار فنانسنگ کے آلات میں جدت کا محرک بن رہا ہے۔
گوش کے مطابق پائیدار اقتصادی منتقلی کے لئے بڑے پیمانے پر نئی معدنیات کی کان کنی، بجلی کی ترسیل و تقسیم، بیٹری اسٹوریج، اور برقی گاڑیوں و ہیٹ پمپ جیسی برقیاتی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے کو جی ڈی پی کے تقریباً چار فیصد کے مساوی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اس کے لئے حکومتوں، سرمایہ کاروں، نجی شعبے اور بینکوں کو مشترکہ طور پر کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار اب ایسے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو منافع اور پائیداری دونوں کو یکجا کریں۔ مالی منافع کو ماحولیاتی اثرات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے یہ منصوبے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی پرکشش بن جاتے ہیں۔