اتحاد ریلوے کی مسافر سروس 2026 میں آغاز کے قریب، ڈاکٹر ثانی الزیودی اور اعلیٰ عہدیداران کی آزمائشی سفر میں شرکت

ابوظہبی، 8 اکتوبر، 2025 (وام)--وزیرِ مملکت برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے اتحاد ریلوے کے سی ای او شادی ملک اور سینئر حکومتی وفد کے ہمراہ اتحاد ریلوے کی مسافر سروس کے افتتاح سے قبل آزمائشی سفر میں شرکت کی۔ یہ سروس 2026 میں باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر آغاز کرے گی۔

یہ سفر سروس کے پہلے مرحلے پر مشتمل تھا، جو دبئی کے القدرہ سے فجیرہ تک کیا گیا۔

اتحاد ریلوے کی یہ مسافر سروس، اس کے مال برداری نظام کے ساتھ مل کر، جو 2030 تک سالانہ 6 کروڑ ٹن سے زائد سامان کی نقل و حمل کرے گا اور متحدہ عرب امارات کے جامع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ بن جائے گی۔ یہ منصوبہ ملک بھر میں سفر کی سہولت بڑھانے، مقامی برادریوں کو بااختیار بنانے اور صنعتوں کی ترقی میں مدد فراہم کرے گا۔

اس موقع پر ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا کہ اتحاد ریلوے منصوبہ ملک بھر میں مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت کے نظام میں انقلابی کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ، "اتحاد ریلوے کی مسافر سروس کا آغاز ہمارے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی توسیع اور جدیدیت کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہوگا۔ یہ تاریخی منصوبہ پہلے ہی صنعتی زونز، بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹ مراکز کے درمیان سامان کی تیز رفتار ترسیل کو ممکن بنا چکا ہے، اور اب یہ مسافروں کے لیے بھی بہتر روابط فراہم کرے گا، جو پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ اور مضر اخراجات میں کمی کا باعث بنے گا۔"

اتحاد ریلوے کے سی ای او شادی ملک نے کہا کہ، "ہمیں خوشی ہے کہ ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے اتحاد ریلوے کی مسافر سروس کا مشاہدہ کیا۔ یہ منصوبہ ہماری دانشمند قیادت کے وژن کی روشنی میں، اتحاد ریلوے کے چیئرمین شیخ ذیاب بن محمد بن زاید آل نہیان کی قیادت میں ایک نئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات میں رابطوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار و مؤثر نقل و حرکت کے مستقبل کی جانب پیش قدمی کا عکاس ہے۔"

مسافر سروس کے آغاز کے بعد اتحاد ریلوے کا نیٹ ورک ملک کے مغربی کنارے پر واقع السیلا سے لے کر مشرقی ساحل پر فجیرہ تک 11 شہروں کو آپس میں جوڑے گا، جس سے اہم مقامات تک رسائی میں بہتری اور ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔ ہر ٹرین میں 400 تک مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی، جبکہ 2030 تک سالانہ مسافروں کی تعداد 3 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ جدید اور اختراعی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ذریعے علاقائی انضمام کو فروغ دے رہا ہے، ساتھ ہی 2050 تک "خالص صفر اخراج" کے ہدف کے حصول کی جانب بھی پیش رفت کر رہا ہے۔

اتحاد ریلوے کا نیٹ ورک 900 کلومیٹر پر محیط ہے، جو غویفات سے فجیرہ تک پھیلا ہوا ہے، اور ملک کی اہم بندرگاہوں — خلیفہ پورٹ، جبل علی پورٹ اور الرویس پورٹ — کو صنعتی مراکز سے منسلک کرتا ہے۔ یہ نظام اشیاء کی مؤثر ترسیل اور صنعتی پیداوار کو عالمی سپلائی چین کے اہم مراکز تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

2030 تک سالانہ 6 کروڑ ٹن کی متوقع گنجائش کے ساتھ، اتحاد ریلوے کا یہ نظام پہلے ہی ملکی فریٹ لاجسٹکس کو بدل چکا ہے اور متحدہ عرب امارات کی تجارتی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔