ابوظہبی میں عالمی تحفظ کانگریس 2025 کا افتتاح، متحدہ عرب امارات کی پائیدار ترقی کے عزم کی تجدید

ابوظہبی، 9 اکتوبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں، ابوظہبی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے آج ابوظہبی میں عالمی تحفظ کانگریس 2025 کا افتتاح کیا۔ یہ تقریب خلیجی خطے میں “تحفظ میں تبدیلی کی قوت” کے عنوان کے ساتھ پہلی مرتبہ منعقد ہو رہی ہے۔

اس موقع پر شیخ خالد بن محمد بن زاید نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ متحدہ عرب امارات کی جامع ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور ملک نے قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیداری میں ایک عالمی مثال قائم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے موحولیات کے تحفظ میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے، جس میں ماحولیاتی نظام کی بحالی، نایاب انواع کے تحفظ اور محفوظ علاقوں کے نیٹ ورک میں توسیع جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اب یہ علاقے ملک کے کل زمینی رقبے کے 15 فیصد سے زیادہ حصے پر محیط ہیں۔

شیخ خالد نے مزید کہا کہ اماراتی قیادت پائیداری کو اپنے مستقبل کے وژن کا مرکز قرار دیتی ہے، کیونکہ ماحولیات کا توازن اور قدرتی وسائل کا تحفظ پائیدار ترقی اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی کے لیے نہایت ضروری بنیادیں ہیں۔

افتتاحی تقریب میں وزیرِ رواداری و بقائے باہمی شیخ نھیان بن مبارک النہیان، وزیرِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحول ڈاکٹر آمنہ بنت عبداللہ الضحاک، وزیرِ مملکت شیخ شخبوت نھیان النہیان، چیئرمین محکمہ برائے سماجی ترقی ابوظہبی ڈاکٹر مغیر خمیس الخطیلی، چیئرپرسن محکمہ تعلیم و علم ابوظہبی سارہ عواد مسلم، صدر عالمی یونین برائے تحفظِ فطرت اور منیجنگ ڈائریکٹر محمد بن زاید اسپیشیز کنزرویشن فنڈ رزان خلیفہ المبارک، اور سیکرٹری جنرل ماحولیاتی ایجنسی ابوظہبی ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری شریک تھیں۔

تقریب میں عالمی ماحولیاتی رہنما بھی شریک ہوئے جن میں جمہوریہ پلاؤ کے صدر سورینجل ویپس جونئیر، محمد ششم فاؤنڈیشن برائے ماحولیاتی تحفظ کی چیئر شہزادی للا حسناء، ریاست پاہنگ کے ریجنٹ پرنس تنگکو حسنال ابراہیم عالم شاہ، آئی یو سی این کی سرپرستِ فطرت اور مشن بلو کی بانی ڈاکٹر سیلویا ایرل، پاناما کے وزیرِ ماحولیات خوان کارلوس نیوارو، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر الزبتھ مریم مرما، اور رامسر کنونشن کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر موسونڈا ممبا شامل تھیں۔

عالمی تحفظ کانگریس کی میزبانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات بین الاقوامی تعاون، اختراع اور ماحولیاتی توازن کو فروغ دینے میں ایک کلیدی قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کاوشیں قومی حیاتیاتی تنوع کی حکمتِ عملی 2031 کے اہداف سے مطابقت رکھتی ہیں، جن میں قدرتی حلوں کا فروغ، ماحولیاتی نظاموں کی بحالی، اور عربی اور سیمتھر سینگ والے اورکس جیسی نایاب اقسام کا تحفظ شامل ہے۔

ملک کی سرحدوں سے باہر بھی متحدہ عرب امارات پائیداری کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے — قدرتی حلوں، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، اور عالمی غذائی و آبی تحفظ میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ بڑے ماحولیاتی پروگراموں کی میزبانی اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے امارات نے Kunming-Montreal عالمی حیاتیاتی فریم ورک اور 2030 کے ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔

عالمی یونین برائے تحفظِ فطرت (IUCN) دنیا کا سب سے بڑا ماحولیاتی نیٹ ورک ہے جو حکومتوں، ماہرین اور سماجی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے۔ ابوظہبی میں منعقد ہونے والی عالمی تحفظ کانگریس 2025 پائیدار مستقبل کی تشکیل، عالمی پالیسی سازی، اور تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم عالمی فورم ہے، جو متحدہ عرب امارات کے اس قائدانہ کردار کی واضح مثال ہے جو وہ عالمی ماحولیاتی تحفظ اور اختراعات میں ادا کر رہا ہے۔