کے ٹو' اور 'نیولکس' کا اسٹریٹجک اشتراک، متحدہ عرب امارات میں خودکار ڈلیوری گاڑیوں کے آپریشن کا آغاز'

دبئی، 14 اکتوبر، 2025 (وام)--ابوظہبی میں قائم جدید ٹیکنالوجی کمپنی ‘کے ٹو’، جو خودکار نظاموں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اختراعات میں مہارت رکھتی ہے، نے خودکار ٹیکنالوجی کمپنی ‘نیولکس’ کے ساتھ ایک اسٹریٹجک تعاون کا اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد متحدہ عرب امارات میں خودکار ڈلیوری گاڑیوں کے استعمال اور مقامی آپریشنز کو تیز تر بنانا ہے۔

اس شراکت کے تحت کے ٹو متحدہ عرب امارات میں مقامی فلیٹ آپریٹر کے طور پر کام کرے گی اور ابوظہبی کے اسمارٹ موبیلیٹی نظام میں نیولکس کی خودکار ڈلیوری پلیٹ فارمز کو شامل کرے گی۔

نیولکس، جو اب تک دنیا بھر میں 10,000 سے زائد لیول 4 خودکار گاڑیاں متعارف کرا چکی ہے، متحدہ عرب امارات میں تکنیکی مہارت، مصنوعات کی معاونت اور تربیتی پروگرام فراہم کرے گی تاکہ قومی سطح پر خودکار گاڑیوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کی صلاحیتیں فروغ پائیں۔

یہ منصوبہ ابوظہبی کے اسمارٹ، محفوظ اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک نمایاں قدم ہے، جو مصنوعی ذہانت اور خودکار ٹیکنالوجی میں امارات کی قائدانہ حیثیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر کے ٹو، شان ٹیؤ نے کہا کہ کے ٹو اور نیولکس کے درمیان یہ اسٹریٹجک شراکت خودکار نظاموں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ یہ کے ٹو کے مقامی تجربے کو نیولکس کی بین الاقوامی مہارت کے ساتھ جوڑتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ، “ہم صرف نئی ٹیکنالوجی نہیں لا رہے، بلکہ ایک ایسا ماحولیاتی نظام قائم کر رہے ہیں جو مقامی ہنرمند افرادی قوت کو بااختیار بنائے گا اور شہروں کے نظامِ نقل و حرکت کو جدید انداز میں بدلے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ، "مقامی ماہرین کے ذریعے فلیٹ کی نگرانی اور آپریشن ہماری ترجیح ہے۔ کے ٹو ایک قومی منصوبہ ہے جس کا مقصد ابوظہبی کو خودکار اختراعات کے مرکز کے طور پر مستحکم کرنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہماری تمام نظامی سرگرمیاں اماراتی ماہرین کی قیادت میں ہوں۔”

نیولکس کے بانی و چیف ایگزیکٹو افسر، این یوآن یو نے کہا کہ، “ہم متحدہ عرب امارات میں مستقبل کی نقل و حرکت کے حل کے فروغ کے لیے کے ٹو کے ساتھ شراکت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہماری تکنیکی معاونت اور مقامی صلاحیتوں کی تربیت میں سرمایہ کاری نہ صرف خودکار گاڑیوں کے نفاذ میں مدد دے گی بلکہ پائیدار اور بااختیار کمیونٹیز کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرے گی۔”

یہ تعاون لوجسٹکس، ریٹیل اور لاسٹ مائل سروسز میں خودکار ڈلیوری کے نئے امکانات کو بھی تلاش کرے گا، جس سے کاربن کے اخراج میں کمی، کارکردگی میں بہتری اور قومی ٹیکنالوجی خودکفالت کو تقویت ملے گی۔ یہ تمام اقدامات ابوظہبی وژن 2030 اور متحدہ عرب امارات کی مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی کے مطابق ہیں۔