جائٹیکس گلوبل 2025 میں گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے خصوصی قونصلر سروسز کا آغاز

دبئی، 14 اکتوبر، 2025 (وام)--جائٹیکس گلوبل 2025 کے 45ویں ایڈیشن میں متحدہ عرب امارات کے گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے خصوصی قونصلر خدمات کا آغاز کیا گیا، جو اپنی نوعیت کی دنیا کی پہلی سہولت قرار دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام وزارتِ خارجہ اور فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈینٹیٹی، سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سکیورٹی (آئی سی پی) کے مشترکہ تعاون سے عمل میں آیا۔

افتتاحی تقریب میں وزارتِ خارجہ کے انڈر سیکرٹری عمر عبید الحسن الشامسی، فیڈرل اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سہیل سعید الخیلی، اور دونوں اداروں کے سینئر افسران و عملہ شریک ہوئے۔

یہ شراکت امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی اس ہدایت کے مطابق ہے، جس کے تحت سال 2025 کو ‘ہاتھ میں ہاتھ’ کے موضوع کے ساتھ ‘کمیونٹی کا سال’ قرار دیا گیا ہے جو ایک ایسا قومی اقدام جو قیادت کے متحد، خوشحال اور مضبوط معاشرے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

عمر عبید الشامسی نے کہا کہ گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے یہ نئی قونصلر سروسز یو اے ای کی اس وژن کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت ملک کو عالمی سطح پر بہترین ٹیلنٹ کے لیے پرکشش مرکز بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ اور آئی سی پی کے درمیان اس شراکت داری سے خدمات کا ایک جامع نظام قائم کیا جا رہا ہے، جو گولڈن ویزا رکھنے والوں کو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک سہولت، رہنمائی اور مدد فراہم کرے گا۔

میجر جنرل سہیل الخیلی کے مطابق یہ اقدام سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور جدید سروسز کے معیار میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی، وزارتِ خارجہ کے ساتھ مل کر گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے سمارٹ اور جدید حل تیار کر رہی ہے تاکہ ان کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

نئی قونصلر خدمات میں پاسپورٹ کے گم یا خراب ہونے کی صورت میں بیرونِ ملک الیکٹرانک ریٹرن ڈاکیومنٹ جاری کرنا، براہِ راست رابطے کے لیے ہاٹ لائن، اور ہنگامی صورتِ حال یا بحران کے دوران فوری مدد کے لیے وزارتِ خارجہ کا 24/7 کال سینٹر (0097124931133) شامل ہے۔

یو اے ای کے انسانی ہمدردی کے وژن کے مطابق، ہنگامی اور بحران سے متعلق خدمات جو پہلے صرف شہریوں کے لیے دستیاب تھیں، اب گولڈن ویزا ہولڈرز تک بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ ان خدمات میں بیرونِ ملک انتقال کر جانے والے گولڈن ویزا ہولڈرز کی میت کی واپسی کے انتظامات بھی شامل ہیں، تاکہ اہلِ خانہ پر بوجھ کم کیا جا سکے اور کارروائیاں فوری طور پر مکمل ہوں۔