صدر ورلڈ اکنامک فورم: دبئی میں عالمی مستقبل کونسلز کے اجلاس امارات کے قائدانہ کردار کا ثبوت ہیں

دبئی، 15 اکتوبر، 2025 (وام)--ورلڈ اکنامک فورم کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بورگے برینڈے نے کہاکہ دبئی میں منعقد ہونے والی عالمی مستقبل کونسلز اور سائبر سکیورٹی 2025 کی سالانہ نشستیں، جن میں دنیا بھر سے آٹھ سو سے زائد ماہرین شریک ہیں، متحدہ عرب امارات کے اس قائدانہ کردار کی عکاسی کرتی ہیں جو وہ عالمی سطح پر مستقبل کی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی چیلنجز کے حل میں ادا کر رہا ہے۔

امارات نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بورگے برینڈے نے کہا کہ یہ اجلاس گزشتہ سولہ برسوں سے دبئی میں منعقد ہو رہے ہیں، اور انہوں نے علاقائی و عالمی سطح پر کئی اہم فیصلوں کی رہنمائی میں کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس ماہرین اور فیصلہ سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے انسانیت کی خدمت اور مستقبل کے چیلنجز، مثلاً وبائی امراض اور سائبر خطرات، سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی دور سے گزر رہی ہے، لیکن خلیجی خطے میں امید افزا رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر میں تیز رفتار اقتصادی ترقی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے باعث خطے میں ترقی کی نئی مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔

بورگے برینڈے نے بتایا کہ سائبر سکیورٹی اس سال کے اجلاسوں کا مرکزی موضوع ہے، کیونکہ دنیا بھر میں سائبر جرائم کے باعث سالانہ نقصانات پانچ کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کے درمیان مضبوط تعاون اور مشترکہ نظام قائم کرنا ناگزیر ہے تاکہ عالمی معیشت کو ان خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ دبئی میں منعقد ہونے والا یہ عالمی علمی اجتماع، متحدہ عرب امارات کے اس مقام کو مزید مستحکم کر رہا ہے جو اسے عالمی سطح پر تعمیری مکالمے، علم کے تبادلے، اور پائیدار و محفوظ مستقبل کی تشکیل کے مرکز کے طور پر حاصل ہے۔