اقوامِ متحدہ کا غزہ کی پٹی کی تمام گزرگاہیں کھولنے کا مطالبہ

نیویارک، 16 اکتوبر، 2025 (وام)--اقوامِ متحدہ نے غزہ کی پٹی میں تمام سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے اور علاقے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو بہتر کیا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارِک نے بتایا کہ یو این کی انسانی ہمدردی کی ٹیمیں اور ان کے شراکت دار امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مناسب رسائی کے بغیر مطلوبہ امداد کی فراہمی ممکن نہیں۔

دوجارک کے مطابق، انسانی ہمدردی پر کام کرنے والے ادارے اس وقت درکار پیمانے پر امداد فراہم نہیں کر سکتے کیونکہ اسرائیلی حکام کئی بین الاقوامی تنظیموں (این جی اوز) کو ویزے جاری نہیں کر رہے اور انہیں غزہ میں امدادی سامان بھیجنے کی اجازت نہیں دے رہے۔ اس کے باوجود، غزہ کے اندر موجود یو این ٹیمیں جنگ بندی کے دوران دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز 21 یو این شراکت دار اداروں نے 175 کمیونٹی کچنز کے ذریعے نو لاکھ ساٹھ ہزار کھانے کے پیک تقسیم کیے، جب کہ یو این کی معاونت سے چلنے والی بیکریوں نے دو کلو وزنی ایک لاکھ روٹیاں تیار کیں۔

یونیسیف نے دس لاکھ سے زائد بچوں کے ڈائپرز تقسیم کیے، اور عالمی ادارہ صحت نے دیِر البلح کے گوداموں سے تین ٹرکوں پر مشتمل سرجیکل اور طبی سامان غزہ سٹی کے مرکزی اسٹور تک پہنچایا ہے۔

دوجارک نے مزید بتایا کہ ڈبلیو ایچ او نے ایک بین الاقوامی ایمرجنسی میڈیکل ٹیم تعینات کی ہے جو ہڈیوں کے آپریشن اور زخمیوں کے علاج کی سہولتوں میں بہتری لا رہی ہے۔ اسپتالوں میں دو نئے آپریشن تھیٹر قائم کیے گئے ہیں اور الشِفا اسپتال میں 120 اضافی بستروں کی گنجائش بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یو این ٹیموں نے اریز اور زکیم کراسنگز تک جانے والی مرکزی سڑکوں کو صاف کر لیا ہے تاکہ ان کی ممکنہ دوبارہ بحالی کے بعد شمالی غزہ میں براہِ راست امداد پہنچائی جا سکے۔ دوسری ٹیمیں اس وقت صلاح الدین روڈ کا معائنہ کر رہی ہیں جو کئی ماہ سے بند ہے۔

ترجمان کے مطابق، غزہ کی عوام کی بنیادی انسانی ضروریات میں پانی تک رسائی، خوراک، پناہ گاہیں اور ملبہ ہٹانا شامل ہیں، جن کی فراہمی فوری طور پر ناگزیر ہے۔