متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کا عالمی یومِ توانائی پر پائیدار ترقی اور عالمی تعاون پر زور

دبئی، 21 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزرا اور توانائی کے اعلیٰ حکام نے کہا ہے کہ عالمی یومِ توانائی، جو ہر سال 22 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، دنیا بھر کے ممالک کو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ محفوظ، پائیدار اور سب کے لیے قابلِ رسائی توانائی کے حصول کے لیے مشترکہ عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

اس دن کو 2012 میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں مناے جانے کا آغاز ہوا، جسے اقوامِ متحدہ، عرب لیگ اور افریقی یونین سمیت 54 ممالک نے منظور کیا۔ اس کا مقصد ایسی پالیسیوں کو فروغ دینا ہے جو معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن پیدا کریں۔

اس موقع پر چیئرمین دبئی سپریم کونسل آف انرجی شیخ احمد بن سعید المکتوم نے کہا کہ امارات نے قیادت کی رہنمائی میں ایسا ترقیاتی ماڈل اپنایا ہے جو ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے یو اے ای نیٹ زیرو 2050 حکمتِ عملی اور دیگر قومی منصوبوں پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا، جن کے ذریعے دبئی میں 2050 تک 100 فیصد صاف توانائی کی پیداوار کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔

دیوا کے مینجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او سعید محمد الطایر نے بتایا کہ محمد بن راشد المکتوم سولر پارک کی پیداواری صلاحیت 3,860 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جو 2030 تک 8,000 میگاواٹ سے تجاوز کرے گی، اور اس سے سالانہ 85 لاکھ ٹن کاربن اخراج میں کمی آئے گی۔

وزیرِ توانائی و بنیادی ڈھانچہ سہیل المزروعی کے مطابق یو اے ای کا پاور گرڈ دنیا کے سب سے صاف نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جس میں 6.8 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی اور 5.6 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ براکہ نیوکلیئر پلانٹ اور سولر پارک جیسے منصوبے امارات کو پائیدار توانائی کی منتقلی میں عالمی مثال بناتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل دبئی سپریم کونسل آف انرجی احمد بوطی المہریبی نے کہا کہ جدت، اسمارٹ سرمایہ کاری اور قابلِ تجدید ذرائع میں تحقیق و ترقی ہی مستقبل کی توانائی کے تحفظ اور پائیداری کی ضمانت ہے۔

سی ای او ایمپاور احمد بن شافر نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کولنگ ٹیکنالوجی کی جدتوں سے بجلی کے استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے، جو قومی نیٹ زیرو اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

جبکہ یوسف احمد العلی، سی ای او اتحاد واٹر اینڈ الیکٹریسٹی، نے کہا کہ ڈی اسٹریبیوٹڈ سولر سسٹم جیسے منصوبے اور اسمارٹ ٹیکنالوجیز شمالی امارات میں صاف توانائی کے فروغ میں مددگار ہیں۔

آخر میں حکام نے کہا کہ یو اے ای کی توانائی پالیسی پائیداری، اختراع اور متوازن ترقی کے اس وژن کی عکاسی کرتی ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی دونوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔