دبئی، 21 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نیشنل میڈیا آفس اور میڈیا کونسل کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بطی الحمید نے کہا ہے کہ مواد تخلیق کرنے والے افراد (کنٹینٹ کریئیٹرز) ملک کی حقیقی اقدار اور شناخت کو اجاگر کرنے، قومی ساکھ کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر امارات کی مثبت تصویر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
الامین فورم میں منعقدہ سیشن “سوشل انفلوئنسرز کے دور میں میڈیا کا کردار” سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ سوشل میڈیا اثرورسوخ رکھنے والے افراد کی صلاحیتوں کو قومی بیانیہ مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے — ایسا بیانیہ جو امارات کے ترقیاتی و انسانی ماڈل کو ظاہر کرے، جو روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ “انفلوئنسرز کے دور کی ثقافت” محض تفریح یا سطحی معلومات کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے شعور اجاگر کرنے کے مؤثر ذریعہ کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔
عبداللہ الحمید نے فورم کے سرپرست دبئی کے دوسرے نائب حکمران عزت مآب شیخ احمد بن محمد بن راشد المکتوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم عوامی آگاہی، سماجی ذمہ داری اور افراد و اداروں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کا ایک نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فورم اماراتی قیادت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد ایک باشعور معاشرہ تشکیل دینا ہے — ایسا معاشرہ جو جدید دور کی سیکیورٹی کو صرف جسمانی تحفظ نہیں بلکہ فکری، ثقافتی اور سماجی سلامتی کے طور پر سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ثقافت اور علم اب مخصوص اداروں تک محدود نہیں رہے بلکہ عوامی دائرے میں منتقل ہو چکے ہیں، جس سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز نئی نسل کے فکری رہنما بن گئے ہیں جو سوچ اور رویوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
عبداللہ الحمید نے کہا کہ اگرچہ یہ تبدیلی ابلاغ اور علم کے تبادلے کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اخلاقیات، ثقافتی شناخت اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق اثرورسوخ ایک دو دھاری تلوار ہے جو ذمہ داری سے استعمال ہو تو روشنی کا ذریعہ بنتا ہے، اور غیر ذمہ داری سے بگاڑ پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے انفلوئنسرز محض مواد تخلیق کرنے والے نہیں بلکہ ترقی اور سماجی سلامتی کے شراکت دار ہیں، جو قومی اقدار کو فروغ دینے اور صحت، ماحول اور معاشرتی شعور کے حوالے سے آگاہی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے افراد کو مضبوط اور بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ امارات کے انسانی ہمدردی کے پیغام کے سفیر کے طور پر کردار ادا کریں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو آگاہی، امید اور اجتماعی شعور کے مراکز میں تبدیل کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صرف تیز رفتار اور تفریح پر مبنی مواد اگر غالب آ جائے تو یہ معاشرتی اور فکری چیلنج پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ ایسا مواد مطالعے کی عادت، تنقیدی سوچ اور ثقافتی ذوق کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ڈیجیٹل آگاہی کو فروغ دیا جائے جو رفتار اور معیار میں توازن رکھے، اور سماجی و ثقافتی ہم آہنگی کو برقرار رکھے۔
عبداللہ الحمید کے مطابق پائیدار شعور کی تشکیل کے لیے ثقافت، میڈیا اور معاشرے کے درمیان مربوط نظام ناگزیر ہے، اور روایتی میڈیا و سوشل انفلوئنسرز کے درمیان تعاون و یکسانیت ہی اعتماد اور اثر میں اضافہ کر سکتی ہے۔
اختتامی کلمات میں عبداللہ الحمید نے کہا کہ میڈیا کو الگورتھمز کا قیدی نہیں بلکہ اقدار کا رہنما ہونا چاہیے، اور حقیقی انفلوئنسر وہ ہے جو محض پیروکاروں کی تعداد نہیں بلکہ اپنے مثبت اثرات سے معاشرے میں تبدیلی لاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کا تحفظ آگاہی سے شروع ہوتا ہے، اور میڈیا و ثقافت اس دفاع کی پہلی صف ہیں۔ مواد تخلیق کرنے کی طاقت کو مثبت سمت میں استعمال کرنا ہی معاشرتی اتحاد اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے کی کنجی ہے۔