پاکستان کی ادویات و طبی آلات کی برآمدات 30 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ

کراچی، 23 اکتوبر، 2025 (وام)--وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ، سید مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان آئندہ چند برسوں میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات کو موجودہ ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے۔

وزیر صحت نے یہ اعلان کراچی ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ ایشیا 2025 کی 22ویں نمائش کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جس میں 50 سے زائد ممالک کے نمائندے اور کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں تاکہ طبی شعبے میں اختراعات اور نئی شراکت داریوں کو فروغ دیا جا سکے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق، سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کی دواسازی صنعت میں بے پناہ برآمدی صلاحیت موجود ہے، اور مقامی کمپنیاں پہلے ہی عالمی سطح پر طبی مصنوعات اور پرزے فراہم کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت صنعت کو فروغ دینے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے نظام کو ڈیجیٹلائز کر رہی ہے، جس سے ادویات کی منظوری کے عمل کا دورانیہ برسوں سے کم ہو کر صرف چند ہفتوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ پاکستان جلد ہی عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی لیول تھری ایکریڈیٹیشن حاصل کرے گا، جس کے نتیجے میں 65 ممالک تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی ممکن ہوگی۔

وزیر صحت نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت اگلے 18 ماہ میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا آغاز کرے گی، جس کے لیے چین، سعودی عرب اور ترکی کی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان ویکسین کی درآمدات پر سالانہ 500 ملین ڈالر کی بچت کرے گا اور مستقبل میں ویکسین برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا۔

انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی فراہمی، علاج کی لاگت میں کمی، اور پولیو کے خاتمے جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
سید مصطفیٰ کمال نے زور دیا کہ ویکسینیشن مہمات میں عوامی تعاون ہی پاکستان کے صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔