ابوظہبی، 23 اکتوبر، 2025 (وام)--گلوبل فوڈ ویک 2025 نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ابوظہبی عالمی سطح پر غذائی اختراعات، پائیدار زراعت اور بین الاقوامی تعاون کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ یہ تقریب ایڈینک سینٹر ابوظہبی میں منعقد ہوئی، جس میں 75 ممالک کے ہزاروں مندوبین نے شرکت کی، جن میں سے 18 ممالک نے پہلی بار شرکت کی۔ اس عالمی اجتماع نے خوراک اور مشروبات کی صنعت میں تجارت، جدت اور ثقافتی تبادلے کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
تین روزہ ایونٹ میں پانچ براعظموں کے نمائندہ پویلینز قائم کیے گئے، جہاں بین الاقوامی کمپنیاں، کاشتکار، ماہرِ باورچی اور مینوفیکچررز نے اپنی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجیز پیش کیں۔
نمایاں جھلکیوں میں اٹلی کے شیف لوکا مارٹینو کی قیادت میں کھانے پکانے کے مظاہرے، میکسیکو کے کارن، مرچ اور کوکو کی نمائش، اور ایشیائی و عرب ممالک — جاپان، جنوبی کوریا، چین، اردن، مصر اور فلسطین — کی جدید زرعی ٹیکنالوجی، پودوں پر مبنی غذاؤں اور روایتی مصنوعات کی پیشکش شامل تھی۔
یہ سب کچھ عالمی غذائی صنعت کی تنوع، جدت اور ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
گلوبل فوڈ ویک کے ساتھ ساتھ ابوظہبی انٹرنیشنل فوڈ ایکزیبیشن، ڈیٹ پام ایکزیبیشن، گلوبل فوڈ ٹاکس، اور ایگری ٹیک فورم جیسے اہم ایونٹس بھی منعقد کیے گئے۔
ان سرگرمیوں نے خوراک کے تحفظ، پائیدار زراعت، اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں ابوظہبی کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو نمایاں کیا۔
گلوبل فوڈ ویک 2025 نے واضح کر دیا کہ ابوظہبی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے لیے خوراک کی جدت، ٹیکنالوجی، اور ثقافتی شراکت داری کا محور بنتا جا رہا ہے۔ اس عالمی اجتماع نے ایگری ٹیک کے فروغ اور سرحد پار تعاون کے ذریعے اماراتی دارالحکومت کو پائیدار خوراکی نظاموں کی تشکیل میں قائدانہ مقام فراہم کیا ہے۔