شیخ محمد بن راشد کی زیرِ صدارت کابینہ کا اجلاس، 2026 کا اب تک کا سب سے بڑا وفاقی بجٹ منظور

ابوظہبی، 27 اکتوبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی زیرِ صدارت کابینہ کا اجلاس قصر الوطن، ابوظہبی میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں نائب صدر، نائب وزیرِ اعظم و صدارتی عدالت کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان، دبئی کے ولی عہد، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ دفاع عزت مآب شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم، دبئی کے پہلے نائب حکمران، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خزانہ عزت مآب شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم، اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ داخلہ عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان شریک تھے۔

کابینہ کے اجلاس کے موقع پر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہاکہ،’’آج میں نے قصر الوطن میں کابینہ اجلاس کی صدارت کی، جس کے دوران 2026 کا وفاقی بجٹ منظور کیا گیا۔ اس بجٹ کی متوقع آمدنی 92.4 ارب درہم ہے، جو اخراجات کے برابر رکھی گئی ہے۔ 2026 کا وفاقی بجٹ اتحاد کے قیام کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا بجٹ ہے، جو وفاقی نظام کو مزید مضبوط کرتا ہے اور متوازن ترقی کے لیے ہمارے عزم کی تجدید کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ نے ایک وفاقی مالی امدادی پروگرام کے قیام کی بھی منظوری دی، جو ہر سال وفاقی بجٹ سے مختص فنڈز کے ذریعے مضبوط کیا جائے گا، تاکہ وفاقی اداروں کی مالی استحکام اور ادارہ جاتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیخ محمد بن راشد المکتوم نے وضاحت کی کہ اجلاس کے دوران 2024 کی قومی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری ایجنڈا کے نتائج کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی مجموعی بیرونی سرمایہ کاری ایک کھرب 5 ارب درہم تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔ متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں پہلے اور عالمی سطح پر بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری کے لحاظ سے سرفہرست 20 معیشتوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ، 35 بین الاقوامی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی منظوری دی گئی، جو اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی برآمدات کی ترقیاتی پالیسی کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق 2019 میں برآمدات 470 ارب درہم سے بڑھ کر 2024 میں 950 ارب درہم تک پہنچ گئیں، یعنی 103 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ،’’ہمارے بجٹ متوازن ہیں، ہماری سرمایہ کاری میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، ہماری غیر تیل تجارت مستحکم ترقی کر رہی ہے، اور ہماری معیشت صدرِ امارات عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت میں مزید استحکام اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، تاکہ عوام اور یہاں بسنے والے تمام لوگوں کو باوقار زندگی فراہم کی جا سکے۔‘‘

کابینہ نے 2026 کے مالی سال کے لیے وفاقی عام بجٹ اور خودمختار اداروں کے بجٹ کی منظوری دی، جس میں اخراجات اور آمدنی دونوں کا تخمینہ 92.4 ارب درہم رکھا گیا ہے۔ یہ وفاقی حکومت کی آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور اتحاد کی تاریخ کا سب سے بڑا وفاقی بجٹ ہے۔

2025 کے بجٹ کے مقابلے میں 2026 کے بجٹ میں اخراجات اور آمدنی میں 29 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو قومی معیشت کی مضبوطی اور مالی وسائل کی پائیداری کو ظاہر کرتا ہے، تاکہ ترقیاتی، اقتصادی اور سماجی منصوبوں کے لیے فنڈنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بجٹ ’’ہم متحدہ عرب امارات 2031‘‘ وژن کے اہداف اور قومی ترجیحات کے مطابق مختلف کلیدی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سماجی ترقی اور پنشن کے لیے 34.6 ارب درہم (37 فیصد)، حکومتی امور کے لیے 27.1 ارب درہم (29 فیصد)، مالی سرمایہ کاری کے لیے 15.4 ارب درہم (17 فیصد)، وفاقی اخراجات کے لیے 12.7 ارب درہم (14 فیصد)، اور انفراسٹرکچر و اقتصادی ترقی کے لیے 2.6 ارب درہم (3 فیصد) مختص کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں 2024 کی قومی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری ایجنڈا کے نتائج کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی مجموعی بیرونی سرمایہ کاری 2024 کے اختتام تک 1.05 کھرب درہم تک پہنچ گئی، جو 2023 کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔ عالمی منڈیوں میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری 86 ارب درہم رہی، جو 2023 کے مقابلے میں 4.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

متحدہ عرب امارات دنیا کے سرفہرست 20 بیرونی سرمایہ کار ممالک میں شامل ہے، عرب دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، عرب ممالک کی مجموعی بیرونی سرمایہ کاری میں 38.4 فیصد، مغربی ایشیا میں 35.1 فیصد، اور مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ (مینا) خطے میں 35 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

کابینہ نے متحدہ عرب امارات کی برآمداتی ترقیاتی پالیسی کے نتائج کا بھی جائزہ لیا، جس کے مطابق ہدفی ممالک کے ساتھ غیر تیل تجارت کا حجم 2019 میں 469.3 ارب درہم سے بڑھ کر 2024 میں 952.6 ارب درہم تک پہنچ گیا، یعنی 103 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی دوران برآمدات کی مجموعی مالیت 2019 میں 40.1 ارب درہم سے بڑھ کر 2024 میں 139.3 ارب درہم تک پہنچ گئی، جو 247 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس نمایاں ترقی میں کئی ممالک کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں (CEPAs) نے اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے مارکیٹ تک رسائی میں وسعت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، اور قدر کے عالمی سلسلوں کو مضبوط بنایا، جس سے متحدہ عرب امارات عالمی تجارتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوا۔

قدرتی وسائل کے تحفظ کے سلسلے میں، کابینہ نے ’’زیرِ زمین پانی کی معاشی قدر کے تخمینے کے لیے قومی رہنما اصول‘‘ کی منظوری دی۔ اس رہنما اصول کا مقصد زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنا، پانی کے استعمال میں کمی لانا، اور آئندہ نسلوں کے لیے پانی کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدام ’’قومی پروگرام برائے پانی و توانائی کے انتظام 2050‘‘، ’’متحدہ عرب امارات واٹر سیکیورٹی اسٹریٹیجی‘‘، ’’قومی فوڈ سیکیورٹی اسٹریٹیجی 2051‘‘، اور ’’یو اے ای گرین ڈیولپمنٹ اسٹریٹیجی‘‘ کے اہداف کے مطابق ہے۔

کابینہ نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق ’’متحدہ عرب امارات کی دو سالہ شفافیت رپورٹ‘‘ جاری کرنے کی منظوری دی، جس میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے قومی اقدامات اور پیرس معاہدے کے تحت کی جانے والی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اخراج کے اعداد و شمار، تخفیفی اقدامات، موافقتی حکمت عملیوں اور مستقبل کے بہتری کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔

مزید برآں، کابینہ نے ’’قومی فوڈ سیفٹی کمیٹی‘‘ کی 2024 کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ لیا، جس میں خوراک کی حفاظت سے متعلق قوانین کے جائزے اور بہتری کے لیے قومی ٹیم کی تشکیل، اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے تعاون سے ’’فوڈ کنٹرول سسٹم اسیسمنٹ‘‘ کے اسٹریٹجک منصوبے کا آغاز، اور خوراک کے خطرات کے اندازے کے لیے متحدہ قومی فریم ورک کی تیاری شامل ہے۔ رپورٹ میں خوراک کے اداروں کے ملازمین کی تربیت کے لیے قومی منصوبے کے آغاز کو بھی اجاگر کیا گیا، تاکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ اور خوراک کے معیار کے تقاضوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

کابینہ نے سیکیورٹیز اینڈ کموڈیٹیز اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ، اور وفاقی قومی کونسل کی سفارشات کا جائزہ لیا، جو اوقاف اور زکوٰۃ فنڈز کے انتظام و پائیداری سے متعلق تھیں۔ اس کے علاوہ، وفاقی حکومت کے اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز کے رہنما کتابچے کی تازہ کاری کی منظوری دی گئی، تاکہ اسے بین الاقوامی پبلک سیکٹر اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز (IPSAS) کے مطابق بنایا جا سکے۔ اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں اور تقریبات میں شرکت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا۔

کابینہ نے ’’ہیلتھ کونسل‘‘ کی نئی تشکیل کی منظوری دی، جس کی سربراہی احمد بن علی السایغ، وزیرِ صحت و تحفظ کریں گے، جبکہ اس میں وفاقی و مقامی صحت کے اداروں اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ اسی طرح ’’قومی صحتِ عامہ کمیٹی‘‘ کی ازسرِنو تشکیل بھی منظور کی گئی، جس کی سربراہی بھی احمد بن علی السایغ کریں گے۔

کابینہ نے سماجی مدد و بااختیاری سے متعلق وفاقی قوانین میں ترمیم کی منظوری دی، جس کا مقصد سماجی ذمہ داری کو مضبوط بنانا، مستفید ہونے والے افراد کو روزگار کے مواقع سے جوڑنا، اور ان کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے اماراتی خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے اقدامات بھی شامل ہیں تاکہ انہیں باعزت زندگی کے لیے درکار سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اجلاس میں ’’ایکسائز اشیاء اور ٹیکسز‘‘ سے متعلق فیصلے، ’’اینٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور ہتھیاروں کی غیر قانونی فراہمی کی روک تھام‘‘ کے وفاقی فرمانی قانون کے نفاذی ضوابط کی منظوری بھی دی گئی۔

بین الاقوامی امور کے تحت، کابینہ نے ریاستِ قطر کے ساتھ فضائی نقل و حمل کے معاہدے، اور جمہوریہ تیونس کے ساتھ تعاون کے معاہدے کی توثیق کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ، مختلف ممالک کے ساتھ 30 سے زائد نئے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر مذاکرات اور دستخط کی منظوری دی گئی، جن میں دوہرے ٹیکس کے خاتمے، جوہری ریگولیشن، مشترکہ بزنس کونسلز کے قیام، ثقافتی و میڈیا تعاون، اور عوامی مالی نظم و نسق کے شعبے شامل ہیں۔

کابینہ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے ’’انٹرنیشنل کانفرنس آن آرٹیفیشل انٹیلیجنس فار سائبر سیکیورٹی‘‘ اور ’’قومی میڈیکل کالجز کی دوسری سالانہ کانفرنس‘‘ کی میزبانی کی بھی منظوری جاری کی ہے۔